• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بوبا ڈرنکس صحت کیلئے کیسے ہیں؟ نئی تحقیق میں ہوشربا انکشافات

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبول مشروب بوبا ٹی یا بوبا ڈرنک کا زیادہ استعمال صحت کے کئی مسائل کا سبب بن سکتا ہے جن میں گردے کی پتھری، فیٹی لیور، ہاضمے کے مسائل اور ذہنی دباؤ شامل ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق یہ مشروب پہلی بار 1980ء کی دہائی میں تائیوان میں متعارف کروایا گیا تھا اور اب دنیا بھر میں خاص طور پر نوجوانوں میں بے حد مقبول ہے۔

اس مشروب میں شامل ٹاپیوکا پرلز (ساگو دانہ) دراصل کاساوا پودے کے نشاستے سے بنتے ہیں جن میں غذائیت بہت کم اور کیلوریز بہت زیادہ ہوتی ہیں۔

امریکی محکمۂ زراعت کے مطابق ایک کپ خشک ساگو دانے میں تقریباً 544 کیلوریز ہوتی ہیں۔

ساگو دانے سے ممکنہ خطرات

تحقیق کے مطابق کاساوا پودا مٹی سے سیسہ اور کیڈمیم جیسے بھاری دھاتیں جذب کر سکتا ہے، بعض رپورٹس میں ببل ٹی (بوبا ٹی) کے چند نمونوں میں سیسے کی مقدار زیادہ پائی گئی جو مسلسل استعمال کی صورت میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ زیادہ مقدار میں ٹاپیوکا پرلز کھانے سے ہاضمہ سست، معدے میں درد، متلی اور بعض نادر صورتوں میں آنتوں میں رکاوٹ بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

بعض بوبا ٹی میں شامل گاڑھا کرنے والا مادہ گوار گم قبض کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

بچوں کے لیے خطرناک

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے بڑے سائز کے پرلز گلے میں پھنسنے (چوکنگ) کا خطرہ بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

سنگاپور میں اس حوالے سے چند خطرناک واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

شوگر کی زیادہ مقدار

تحقیق کے مطابق ایک عام کپ بوبا ٹی میں 20 سے 50 گرام تک چینی ہو سکتی ہے جو کئی اوقات میں کولڈ ڈرنکس سے بھی زیادہ ہوتی ہے، زیادہ چینی کے استعمال سے دانتوں کی خرابی، موٹاپا، ٹائپ ٹو ذیابیطس، فیٹی لیور جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

گردے کی پتھری اور ذہنی صحت

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ببل ٹی میں موجود بعض اجزاء جیسے آکسیلیٹ اور فاسفیٹ گردے کی پتھری کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔ 

تائیوان میں 2023ء کے ایک کیس میں ڈاکٹروں نے ایک 20 سالہ خاتون کے جسم سے 300 سے زائد گردے کی پتھریاں نکالی تھیں جسے بوبا ٹی کے زیادہ استعمال سے جوڑا گیا تھا۔

چین میں ہونے والی کچھ تحقیقات کے مطابق بوبا ٹی زیادہ پینے والے افراد میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور تھکن کی شرح بھی زیادہ دیکھی گئی ہے۔

طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ببل ٹی کو مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اسے روزانہ کے بجائے کبھی کبھار پینا بہتر ہے۔

کم چینی کا انتخاب، چھوٹا سائز لینا اور اضافی گاڑھے اجزاء سے پرہیز کرنا صحت کے خطرات کم کر سکتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید