• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہوش عروج

بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے پر اپنی کہانی لکھ رہی تھیں۔ کمرے میں اداس زردی مائل روشنی تھی، جیسے کسی پرانے چراغ نے زندگی کی آخری لو سنبھال رکھی ہو۔ کتابوں سے بھری الماری کے سامنے ایک درمیانی عُمر کا شخص بیٹھا تھا۔ فرید احمد نقوی، مُلک کا نمایاں افسانہ نگار، جس کا ذکر ادبی رسالوں کے خاص شماروں میں کیا جاتا تھا۔ لیکن آج وہ اپنے قلم سے یوں خفا بیٹھا تھا، جیسے کوئی عاشق برسوں ککی بےاعتنائی کے بعد محبوب کی گلی ہی چھوڑ دے۔

میز پر اَدھ جلا سگریٹ، چائے کاخالی کپ، اوراق کا پلندہ اور ایک چمکتا ہوا پرانا قلم رکھا ہوا تھا، جیسے وقت کے کسی پرانے افسانے کے کردار آج بھی زندہ ہوں۔ ’’اب الفاظ مرگئے ہیں۔‘‘ فرید احمد بڑبڑایا۔ جیسے خُود سے نہیں، بلکہ اپنے کسی غائب قاری سے مخاطب ہو۔ کتابوں کی قطار میں سے ایک جِلد ذرا سی کھسکی، وہ غالب کا دیوان تھا۔ فرید کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

اس نے زیرِلب مصرع پڑھا ؎ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خِشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟ یہ مصرع تو ہر روز ہی فرید سے سوال کرتا تھا، مگر سوالوں کے جواب آسان کہاں ہوتے ہیں؟ زندگی نے اُس سے بہت کچھ چھینا تھا۔ بیوی کو اس کی ادبی زندگی سے چِڑ تھی۔ بیٹا ٹیکنالوجی کا دیوانہ، اور قاری…اب اسکرینز پر مصروف۔ افسانہ اب خال خال ہی پڑھا جاتا تھا۔ کہانیاں اب رِیلز کے چند سیکنڈز کے مناظر میں بدل گئی تھیں۔

اِسی اداسی میں دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ فرید احمد نے چونک کر دیکھا۔ ایک نرم و نازک سی لڑکی، جیسے ہوا کے ہلکے سے جھونکے کی طرح کمرے میں داخل ہوئی۔ حورین، ادبیات کی طالبہ۔ چہرے پر ادب کا شوق اور سوالوں کا بوجھ، ہاتھ میں ’’اردو ادب کی نئی نسل‘‘ نامی تھیسیز لیے فرید احمد سے مخاطب تھی۔ ’’السّلام علیکم سر! مَیں حورین فاطمہ۔ 

ایم فِل کررہی ہوں اور آپ پر تھیسیز لکھ رہی ہوں۔ ’’فرید احمد نقوی: عہدِ حاضر میں ایک خاموش صدا‘‘ کے عنوان سے۔‘‘ فرید احمد کے چہرے کو خفیف سی تھکن بھری مسکان نے چھوا۔ ’’سر! آپ لکھنا کیوں چھوڑ بیٹھے؟ آپ کے افسانوں میں جو گہرا، کڑوا سچ تھا، وہ تو آج کوئی بھی نہیں لکھتا۔‘‘ فرید احمد نے چائے کے خالی کپ پر ایک خالی نظر ڈالی۔

’’بیٹی! آج کے زمانے میں الفاظ سے زیادہ تصاویر بولتی ہیں، اور مَیں تصویریں نہیں بنا سکتا۔‘‘ حورین دھیرے سے مسکرائی۔ ’’لیکن سر! ادب تو انھی لوگوں کا رہے گا، جو لفظوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ تصویریں تو دھندلا جاتی ہیں۔‘‘ یہ جملہ جیسے فرید احمد نقوی کے اندر کہیں ٹوٹا، کہیں جُڑا۔ ’’سر! زمانہ بدلا ہے، مگرآپ کے الفاظ اب بھی سانس لیتے ہیں۔

آپ کا افسانہ ’’خالی پن کی خوش بو‘‘ تو Revelation تھا‘‘ حورین بہت ملائمت سے کہہ رہی تھی۔ فرید احمد کا دل ذرا سا لرزا۔ ’’خالی پن کی خوش بو…‘‘ یہ وہی افسانہ تھا، جو اُس نےاپنی بیوی کےچھوڑ جانے کے بعد لکھا تھا، اوراُس کے بعد تو اُس کا قلم جیسے ہمیشہ کے لیے سوگوار ہوگیا تھا۔ چند لمحے چُپ چاپ گزرے۔

پھر حورین کی آواز اُبھری۔ ’’سر! کیا مَیں آپ کے ساتھ آپ کا اگلا افسانہ لکھنے کا عمل دیکھ سکتی ہوں؟ سر! آپ جیسے لکھنے والے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ فرید احمد نے قلم پر ہاتھ رکھا، مگر پھر فوراً واپس ہٹا لیا۔ ’’مَیں نہیں لکھ سکتا، حورین۔ میرے الفاظ تھک کر مر گئے ہیں۔ مَیں تواُن کا جنازہ اٹھا چُکا ہوں۔‘‘ ’’نہیں سر! لفظ نہیں مرتے۔ وہ بس نئی شکل میں پلٹتے ہیں۔ آپ اُنھیں بےدار کیجیے۔‘‘ حورین کے الفاظ نرم، لیکن لہجہ اٹل تھا۔ فرید احمد نقوی نے سر جُھکا لیا۔

کمرے میں خاموشی کے ساتھ صرف بارش کی آواز تھی۔ جیسے آسمان خُود کوئی افسانہ سُنا رہا ہو۔ رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی۔ کھڑکی کے پاس بارش تھم چُکی تھی، مگر فضا میں نمی باقی تھی۔ فرید احمد نقوی میز کے سامنے بیٹھا تھا، جیسے کوئی مجرم اپنے قلم کے سامنے جواب دہ ہو۔ حورین چپ چاپ کتابوں کی الماری کے قریب کھڑی تھی۔’’سر! کبھی کبھی لگتا ہے، ہم لفظ نہیں لکھتے، بلکہ ہم سے الفاظ خُود اپنے آپ کو لکھواتے ہیں۔

آپ بس قلم تھام لیجیے، شاید آپ کے الفاظ خُود لکھنا چاہیں۔‘‘ فرید احمد نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ ’’تم نئی نسل کے لوگ ادب کو خواب سمجھتے ہو، مگر خوابوں کے لیے نیند چاہیے اور مجھے تو برسوں سے نیند ہی نہیں آتی۔‘‘ ’’پھرسوجائیں سر! کبھی کبھی نیند سے پہلے ایک کہانی لکھی جاتی ہے، جو جاگنے کے بعد حقیقت بن جاتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حورین پلٹ کر کمرے سے نکل گئی تھی۔

اس کاجملہ فرید احمد کے اندر ایک گہری چبھن بن کراُترا تھا۔ اُس نے میز پر رکھے اوراق کے پلندے میں سے ایک کورا ورق نکالا۔ قلم اٹھایا اور پھر ورق پرپہلی بوند گری، جیسے ایک لفظ نے سانس لی ہو۔ پہلی سطر لکھی گئی۔ ’’مَیں ایک پرانا لفظ ہوں۔ زمانے کے شورمیں گم، مگر اب بھی کسی ورق پر زندہ ہونے کا خواب دیکھتا ہوں۔‘‘ کمرے میں ہلکی سے خوش بُو پھیل گئی تھی۔ شاید سیاہی کی، یا شاید یادوں کی۔ فرید احمد لکھتا گیا۔ بغیر رُکے، بغیر پلٹے۔ 

وہ افسانہ نہیں لکھ رہا تھا، اپنی زندگی لکھ رہا تھا۔ ہر جملہ جیسے ایک اعتراف تھا… ہر پیراگراف ایک توبہ…مجھے لفظوں نے نہیں، مَیں نے لفظوں کو چھوڑا تھا۔ لفظ کبھی نہیں مرتے، صرف خاموش ہوجاتے ہیں، جب تک کہ کوئی اُنھیں دوبارہ پکڑ نہ لے۔ کاغذ پر اُس کی سطریں چمک رہی تھیں۔ وہ لکھتا ہی لکھتا چلا جا رہا تھا۔ ’’مَیں نہیں مَروں گا، جب تک کوئی مجھے پڑھتا رہے گا۔‘‘ صُبح کے قریب وہ رُک گیا۔ قلم میز پر رکھ دیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ اُس کےچہرے پر بےحد سُکون تھا، جیسے وہ اپنی کہانی میں واپس لوٹ چُکا ہو۔ ایک بار پھر زندہ ہوگیا ہو۔

اگلی صبح خبر پھیلی۔ ’’ادب کےخاموش ستون، فرید احمد نقوی رات گئے اس جہانِ فانی سے کُوچ کرگئے۔‘‘ حورین کو خبر ملی تو فوراً فرید احمد کے گھر پہنچی۔ کمرے میں داخل ہوئی تو میز پر وہی مسوّدہ رکھا تھا۔ حورین کی آنکھوں سےآنسو بہہ نکلے۔ وہ اوراق سمیٹنے لگی۔ آخری سطر پر نظر پڑی تو دھیرے سے بولی۔ ’’نہیں سر! لفظ نہیں مرتے، آپ زندہ ہیں۔ اپنی ہر تحریر، ہرورق، ہر جملے اور ہر قاری کے دل میں۔‘‘

چند روز بعد مُلک کے ایک مؤقر جریدے میں ایک افسانہ شائع ہوا۔ ’’آخری لفظ‘‘، مصنّف: فرید احمدنقوی (مرحوم)۔ جریدہ ہاتھوں ہاتھ بکا۔ قارئین کی ایک بڑی تعداد اپنے پسندیدہ افسانہ نگار کی آخری تحریر پڑھنا چاہتی تھی۔ اور پھر افسانے کا آخری جملہ پڑھ کر تو نہ جانے کتنی ہی آنکھیں نم ناک، کتنے دل اشک بار ہوگئے۔ ’’اگر تم یہ الفاظ پڑھ رہے ہو، تو مَیں ابھی زندہ ہوں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید