امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے (الحاق) کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ مغربی کنارے میں استحکام اسرائیل کی سلامتی اور خطے میں امن کے امریکی ہدف کے لیے ضروری ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزراء نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں یہودی بستیوں کے لیے زمین کے حصول کو مزید آسان بنانا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔
دوسری جانب مصر، سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان، قطر، اردن، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات سمیت 8 مسلم ممالک نے اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلے فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی اسرائیلی خود مختاری مسلط کرنے کی کوشش ہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، برطانیہ اور اسپین نے بھی اسرائیلی فیصلوں کی شدید مذمت کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان کے مطابق یہ اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
برطانوی حکومت نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں کنٹرول بڑھانے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔
اسپین نے بھی اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایسے میں ہٹ دھڑمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اسرائیلی وزیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے نئے اقدامات کا مقصد فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنا ہے۔