محکمۂ کالج ایجوکیشن سندھ نے خواتین اساتذہ، لیکچررز اور طالبات کی تصاویر کی غیر مجاز فوٹو گرافی اور سوشل میڈیا پر تشہیر کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبے بھر کے کالجوں میں اس عمل پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن کراچی ریجن کے ڈائریکٹر پروفیسر قاضی ارشد حسین صدیقی کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بغیر اجازت تصاویر شیئر کرنا قابلِ تعزیر جرم تصور ہو گا۔
ڈائریکٹر کالج ایجوکیشن کراچی ریجن کی جانب سے تمام سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کو جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خصوصی سیکریٹری، محکمۂ کالج ایجوکیشن نے بعض خواتین کالجوں میں پیش آنے والے ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لیا ہے جن میں خواتین اساتذہ اور طالبات کی تصاویر ان کی رضا مندی کے بغیر بنائی گئیں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔
مراسلے کے متن کے مطابق اس طرح کی سرگرمیاں ناصرف قابلِ اطلاق قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ سماجی اور مذہبی اقدار کے بھی منافی ہیں۔
ہدایت میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام خواتین کالجوں میں بغیر اجازت فوٹو گرافی پر مکمل پابندی ہو گی اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمے دار افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمۂ کالج ایجوکیشن نے تمام پرنسپلز کو ہدایت کی ہے کہ جاری کردہ ایڈوائزری پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ پرنسپل اور عملہ ذمے دار ٹھہرایا جائے گا اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔