• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدنام زمانہ جیفری ایپس ٹین اب اس دنیا میں نہیں رہا لیکن اپنی موت کے بعد بھی اس نے دنیا میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ گزشتہ دنوں منظر عام پر آنیوالی ’’ایپس ٹین فائلز‘‘ کی لاکھوں دستاویزات میں کئے گئے ہولناک انکشافات نے پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق امریکی صدر بل کلنٹن، برطانوی شہزادے اینڈریو، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر، مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس، معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ اور دیگر عالمی شخصیات کے نام شامل ہیں۔ 30لاکھ صفحات، ایک لاکھ 80ہزار سے زائد تصاویر اور 2ہزار سے زائد ویڈیوز میں ایسے انکشافات منظر عام پر آئے ہیں جن میں کئی عالمی شخصیات کے مکروہ چہرے بے نقاب ہوگئے ہیں۔ جیفری ایپس ٹین 1953ء میں نیویارک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا، وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں تھا مگر اسے لوگوں کو متاثر کرنے، اعتماد جیتنے اور خود کو طاقتور حلقوں سے وابستہ ظاہر کرنے میں غیرمعمولی مہارت حاصل تھی۔ اس نے اپنے عملی کیریئر کا آغاز ایک اسکول ٹیچر کے طور پر کیا، بعد ازاں ایک سرمایہ کاری فرم قائم کی جسکے ذریعے اس نے خود کو ایک مالیاتی مشیر کے طور پر پیش کرتے ہوئے دنیا کے امیر اور طاقتور ترین افراد تک رسائی حاصل کرکے دولت کمائی۔ اسی دولت اور اثر و رسوخ کے بل بوتے پر جیفری ایپس ٹین نے نجی طیارے، پرتعیش Yacht اور کیریبین میں واقع جزیرہ ’’لٹل سینٹ جیمز‘‘ خریدا جو بعدازاں میڈیا میں بدنام زمانہ ’’ایپس ٹین آئی لینڈ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ ایپس ٹین کی اصل طاقت صرف دولت نہیں تھی بلکہ عالمی سیاستدانوں، برطانوی شاہی خاندان کے افراد اور ارب پتی سرمایہ کاروں سے اس کے قریبی تعلقات تھے۔ ایپس ٹین نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کم عمر لڑکیوں سے جنسی استحصال کا ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک چلایا، وہ کم عمر لڑکیوں کو پیسوں کا لالچ دے کر انہیں اپنے جزیرے پر دنیا کی طاقتور شخصیات کے سامنے پیش کرتا تھا۔ اس گھنائونے کام میں اس کی قریبی ساتھی گیسلین میکسویل نے اہم کردار ادا کیا جو یہودی ناول نگار رابرٹ میکسول کی بیٹی تھی اور آج کل امریکی جیل میں سزا بھگت رہی ہے۔ رابرٹ میکسول اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کا سینئر ایجنٹ تھا جسکے جنازے میں اسرائیلی وزیراعظم ایہود بارک نے بھی شرکت کی۔ ایپس ٹین کے جرائم پہلی بار 2005ءمیں اُس وقت منظر عام پر آئے جب فلوریڈا پولیس کو ایک 12سالہ لڑکی کے جنسی استحصال کی شکایت موصول ہوئی تاہم ایک متنازع قانونی معاہدے کے تحت جیفری ایپس ٹین کو اس جرم میں صرف 13ماہ کی سزا سنائی گئی، اس رعایت کے باوجود ایپس ٹین اپنے جرائم سے باز نہ آیا اور رہائی کے بعد اس کے جرائم عروج پر پہنچ گئے۔ بالآخر 2019ءکے اوائل میں اسے کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزام میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تاہم اگست 2019ءمیں وہ نیویارک جیل میں مردہ پایا گیا جسے حکام نے خود کشی قرار دیا۔

ایپس ٹین فائلز کے انکشافات مغرب کی اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کا پرچار کرنے والے مغربی ممالک کے حکمراں کس حد تک پستی میں گرچکے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان دستاویزات میں کچھ ایسی شخصیات کے نام بھی منظر عام پر آئے ہیں جنہیں ہم اپنا ہیرو تصور کرتے تھے جن میں سرفہرست بل گیٹس ہیں جو پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ ایپس ٹین فائلز میں پاکستان کا ذکر بھی آیا ہے اور جیفری ایپس ٹین نے اپنی ایک ای میل میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو روسی صدر ولادی میر پیوٹن، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ جیفری نے اپنی ای میل میں عمران خان کے بارے میں مزید لکھا کہ ’’اس شخص نے میرے کھرب پتی یہودی دوست جمی گولڈ اسمتھ کی بیٹی سے شادی کی اور اسے مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا۔‘‘

جیفری ایپس ٹین کا عروج جتنا پراسرار تھا، اس کا انجام بھی اتنا ہی پر عبرتناک رہا اور اس کی موت نے جنسی استحصال کے اسکینڈل کو مزید پراسرار بنادیا۔ گوکہ جیفری ایپس ٹین اب دنیا میں نہیں رہا لیکن موت کے بعد وہ پہلے سے زیادہ خطرناک بن گیا ہے اور اس کی زندگی اور نیٹ ورک سے جڑے جنسی استحصال کے اسکینڈل نے عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کے مراکز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ جیفری ایپس ٹین اتنا بڑا گھنائونا نیٹ ورک اکیلے نہیں چلارہا تھا بلکہ اسے مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کی سرپرستی حاصل تھی۔ ایسے میں جب امریکہ، ایران پر حملہ کرنے میں تذبذب کا شکار ہے، اسرائیل کی یہ کوشش ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بلاتاخیر ایران پر حملہ کرکے رجیم چینج کے اسرائیلی منصوبے کو کامیاب بنائیں۔ ایسی صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جیفری ایپس ٹین کے ساتھ تعلقات، متعدد تصاویر کا اچانک منظر عام پر آنا، ٹرمپ کو شدید تنقید اور دبائو کا نشانہ بنانا محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے تانے بانے موساد سے ملتے ہیں جو ’’ایپس ٹین آئی لینڈ‘‘ پر کم عمر لڑکیوں کے ساتھ خفیہ طور پر ریکارڈ کئے گئے مواد کو بلیک میلنگ، سفارتی دبائو اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرسکتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی طاقتیں اور اُن کی خفیہ ایجنسیاں اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کس حد تک گرسکتی ہیں۔

تازہ ترین