امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے امریکا کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسے ’انتہائی سخت‘ اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا جن میں ممکنہ فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یا تو ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جائے گا یا پھر امریکا سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہو گا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔
امریکا نے خطے میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن تعینات کیا ہوا ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ دوسرا طیارہ بردار جہاز بھی بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے، اس فوجی سرگرمی سے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی حکومت نے اپنے تجارتی بحری جہازوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ایرانی سمندری حدود سے حتی الامکان دور رہیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران سے 3 بڑے مطالبات کر رہی ہے جن میں یورینیئم افزودگی کا مکمل خاتمہ، خطے میں اتحادی مسلح گروہوں سے تعلقات ختم کرنا اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا شامل ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے ان مطالبات کو نہ ماننا ’بیوقوفی‘ ہو گی۔