ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے خلیجی عرب ممالک کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔
ایک طرف انہیں اپنے قریبی اتحادی امریکا کی ناراضگی کا خطرہ ہے اور دوسری جانب اپنے ہمسایہ ایران کے ممکنہ ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا تقریباً 40 فیصد حصہ اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے تھا، اب تک 2000 سے زائد میزائل اور ڈرون خلیجی ریاستوں کی طرف داغے جا چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا مقصد خلیجی ممالک کو واشنگٹن سے دور کرنا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل ان حملوں کو عرب حکومتوں پر جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ بڑھانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر کمال خرازی نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک پر حملے جاری رہیں گے تاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی خلیجی اتحادیوں پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوتے تو امریکہ کو ان کے دفاع پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔
خلیجی ریاستیں اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس کے طویل مدتی اثرات انہیں ہی بھگتنا پڑیں گے، ایک اماراتی عہدیدار کے مطابق ایران خطے کا مستقل ہمسایہ ہے اور بالآخر تعلقات کو بحال کرنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کو یہ بھی خدشہ ہے کہ امریکا مستقبل میں خطے سے اپنی فوجیں واپس بلا سکتا ہے، جبکہ ایران ہمیشہ ان کا پڑوسی رہے گا۔
جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی بھی متاثر ہو رہی ہے، خلیج کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے، جس سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
اسی دوران قطر انرجی نے بھی اپنے کچھ گیس منصوبوں کی پیداوار روک دی ہے جس کے بعد یورپ میں گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
قطر کے توانائی وزیر کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران کے قشم جزیرہ پر واقع پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر حملہ ہوا جس کے جواب میں ایران نے بحرین میں ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو ڈرون حملے سے نقصان پہنچایا، اس واقعے کے بعد خلیجی ممالک میں پانی کی فراہمی کے نظام کو لاحق خطرات پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک دنیا کی ڈی سیلینیشن صلاحیت کا تقریباً نصف حصہ رکھتے ہیں، اس لیے پانی کے انفرا اسٹرکچر پر حملے خطے کے لیے سنگین بحران پیدا کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی حکومتیں ابھی تک جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں، لیکن مسلسل حملوں کی صورت میں ان کے لیے غیر جانبدار رہنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔