حالیہ دنوں ایران امریکا تعلقات میں خاصی کشیدگی چل رہی ہے اگرچہ اس میں بظاہر وقتی ٹھہراؤ آیا ہے مگر منافرتوں کی چنگاری اندر ہی اندر سلگ رہی ہے اور دونوں ممالک آنیوالے دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف اپنی اپنی سیاسی،معاشی اور عسکری سٹرٹیجی پر کام کر رہے ہیں بالخصوص امریکا کسی بھی قیمت پر ایران کی نیوکلیئر پاور کو قبول کرنے پر تیار نہیں ۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف امریکا کا طاقتور ترین ابراہم لنکن بحری بیڑا ایران کے گردمنڈلا رہا ہے، دوسری طرف عرب خلیجی ریاستوں اور ترکیہ کی بھرپور سفارت کاری سے عمان کے کیپیٹل مسقط میں امریکا ایران مذاکرات چل رہے ہیں، خلیجی عرب ممالک جہاں امریکا کے طاقتور عسکری اڈے ہیں، ان کی بھرپور کاوش ہے کہ کسی طرح یہ بڑی جنگ ٹل جائے جبکہ مغربی رائے عامہ ان دِنوں ایران کے اندر ہونے والے حکومت مخالف احتجاج میں ہلاکتوں پر اضطراب میں ہےمغربی میڈیا ان ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں بتا رہا ہے۔
اس تمامتر خلفشار کی جڑیں 1979ء کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں جو امریکا کے مضبوط ترین اتحادی شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا تخت الٹ کر برپا کیا گیا تھا۔ تب سے لیکر آج تک ہر دو ممالک کی قیادتیں ایک دوسرے کو کبھی نرم کبھی گرم پھونکیں مارتی چلی آرہی ہیں۔
اسلامی ایران کی مذہبی و انقلابی قیادت کو امریکا پر اصل غصہ یا شکایت، انقلاب کی جدوجہد کے دوران شاہِ ایران کیلئے امریکا کی بے پایاں حمایت تھی حالانکہ اُس دور کے تہران میں امریکی سفیر کی یاد داشتوں کا مطالعہ کیا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ بظاہر شاہ ایران کی بھرپور حمایت کا پیہم اعادہ کرنے کے باوجود اُس دور کی امریکی انتظامیہ بالخصوص پریذیڈنٹ جمی کارٹر کا شاہ پر اندرونی حوالے سے شدید دباؤ رہا کہ وہ مظاہرین پر تشدد سے باز رہیں اپنے عوام کے حق تقریر و تحریر اور حق احتجاج کا احترام کریں ویسے بھی جن لوگوں نے کارٹر کی آٹو بائیو گرافی پڑھ رکھی ہے انہیں یہ حقیقت سمجھنے میں قطعی دقت نہ ہو گی کہ کارٹر امریکی انتظامیہ کے سربراہ کی حیثیت سے ہیومین رائٹس کے متعلق کتنے حساس اور فکر مند تھے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ شاہ کیخلاف انقلاب سے قبل جو ہوا سو ہوا کے تحت الجھاؤ ختم ہوتے ہی ایک نئے دور کا بہتر آغاز کرتے ہوئے ہر دو ممالک کی قیادتیں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتیں مگر یہاں ہوش پر جوش اور رواداری پر شدت پسندی کے جذبات نے غلبہ پائے رکھا۔ جو امریکی سفارت کاروں کو طویل عرصے تک یرغمال بنائے رکھنے سے شروع ہوا اور نت نئے بگاڑ کی طرف بڑھتا چلا گیا ۔حضرت آیت اللہ خمینی کے انقلاب کو محض امریکا دشمنی کا چیلنج ہی درپیش نہیں تھا شاہ ایران کے ہمدردوں یا باقیات کا بھی سامنا تھا اسکے ساتھ ہی اپنے قریب ترین ہمسائے عراق کے صدر صدام حسین کا چیلنج بھی کم اہم نہیں تھا جن کیساتھ پوری دہائی پر محیط ایران کی تھکا دینے والی جنگ جاری رہی۔
یوں اندرونی اور بیرونی ہر دو محاذوں پر جو خلفشار برپا رہا آخر اس کے نتائج کی قیمت بھی مابعد ایرانی قوم نے ہی چکانی تھی مگر دشمنیوں کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ مڈل ایسٹ میں مضبوط امریکی اتحادیوں اسرائیل، اردن، مصر اور سعودی عرب تک پھیلتا چلا گیا۔ نتیجے میںایرانی قیادت کو مختلف ممالک میں اپنی ہم خیال تنظیموں کا سہارا لینا پڑا جن میں لبنان کی حزب اللہ اور فلسطین کی حماس پیش پیش تھیں۔ بلاشبہ ہمارے انقلابی ایرانی بھائیوں کی امریکیوں سے شکایات چار دہائیوں سے بھی بڑھ کر ہیں وہ مڈل ایسٹ میں اسرائیل کے قیام کو ایک ناسور قرار دیتے رہے ہیں بقول ایرانی صدر احمدی نژاد جسکا وجود صفحہ ہستی سے مٹا کر دم لیں گے لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ موجودہ دنیا کے نارمز ایسے رویوں یا پالیسیوں کو بہ نظر تحسین نہیں دیکھتے۔ یو این ہیومن رائٹس چارٹر تو تمام ممالک کی آزادی، آئین، جمہوریت، انسانی حقوق کے تحفظ اور کمزور طبقات کا سہارا بننے کی بات کرتا ہے۔ ایسے میں اگر ہم یو این کی کسی بھی ممبر قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات کریں اور یہ بھی چاہیں کہ ہم یورینیم کی افزودگی کرتے ہوئے اٹیمی طاقت کے حصول کی کوششیں کریں تو عالمی طاقتوں میں اس کیخلاف فضا ضرور بنے گی...ایرانی انقلابی قیادت کو امریکا سے جتنی بھی شکایات ہیں ان سب کے علی الرغم اگر درویش خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں جائزہ لے تو بہت سے ایسے امریکی اقدامات سے انکار نہیں کیا جا سکتا جن سے براہ راست ایران اور ایران کی مذہبی قیادت کو فائدہ و استحکام ملا۔
عراق سے صلح اسکی ایک مثال ہے۔ حالیہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت سے داعش کی باقیات کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرنے کی اپیل کی ہے انہیں یہ بھی پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ کی دشمن بد ترین دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا خاتمہ کس نے کیا؟ یہ حقیقت پوری دنیاپر عیاں ہے کہ ایران کو اسکے بدترین مخالفین سے امریکیوں نے نجات دلائی۔ ایرانی قیادت کو یہ ضرور غورکرنا چاہیے کہ موجودہ دنیا میں آگے بڑھنے کیلئے شدت پسندی پر مبنی نعرے اور پالیسیاں کارگر نہیں، آج کی دنیا میں داخلی و خارجی پالیسیاں صرف اور صرف اپنے عوام کے مفاد میں تشکیل دینا ہی عقلمندی ہے۔