خاتونِ اول، رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ رہائش بنیادی حق ہے اور پیپلز پارٹی کے وعدے روٹی، کپڑا اور مکان میں شامل ہے۔
ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026ء سے خطاب کے دوران آصفہ بھٹو نے کہا کہ محفوظ رہائش کا اثر خواتین اور بچوں کے لیے خاص طور پر گہرا ہے، محفوظ گھر اور مالی شمولیت سے خواتین کے فوائد گھر سے باہر تک پھیلتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں لاکھوں خاندان موسمیاتی تبدیلی اور سماجی چیلنجز سے متاثر ہیں، محفوظ رہائش کی کمی صرف مادی مسئلہ نہیں بلکہ وقار اور مواقع کا نقصان ہے، رہائش محض چھت نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور استحکام کی بنیاد ہے۔
آصفہ بھٹو کا کہنا ہے کہ مستقل رہائش وہ جگہ ہے جہاں خاندان سنبھلتے، بچے خواب دیکھتے اور کمیونٹیز آگے بڑھتی ہیں، خواتین خاندان، سماجی ہم آہنگی اور طویل مدتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، خواتین کو منصوبوں کے مرکز میں رکھنے سے پوری معاشرے کی پائیداری ہوتی ہے، ایشیا پیسیفک خطہ دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی طور پر حساس علاقوں میں سے ہے۔ سیلاب، طوفان، زلزلے اور شدید گرمی کمیونٹیز کو بے گھر اور بستوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی پائیداری ہر پہلو میں شامل ہونی چاہیے، ڈیزائن سے کمیونٹی گورننس تک، اسی پس منظر میں سندھ ایک طاقتور اور متعلقہ مثال پیش کرتا ہے، 2022ء کے سیلاب کے بعد سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام شروع کیا گیا، قدرتی آفت کے بعد 2 کروڑ 10 لاکھ ماحولیاتی مضبوط مکانات کا یہ دنیا کا بڑا منصوبہ ہے، یہ منصوبہ 15 ملین سے زیادہ لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا رہا ہے، مکانات اور زمین خواتین کے نام کر کے ان کے وقار، تحفظ و مالی شمولیت کو مضبوط کر رہے ہیں۔
آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ بحالی صرف ڈھانچہ نہیں بلکہ زندگی و مستقبل کو بحال کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، پائیدار بستوں کے لیے سماجی ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہے، مضبوط کمیونٹیز اعتماد، شرکت اور ملکیت کے احساس سے بنتی ہیں، فیصلہ سازی و مستقبل میں سرمایہ کاری سے بحالی تیز گہری و ترقی دیرپا ہوتی ہے، یہ فورم حکومت، شراکت داروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور کمیونٹیز میں تعاون مضبوط کرنے کا موقع ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ذمے داری ہے سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور کمزور افراد شامل حل اپنائیں، ہماری مشترکہ ذمے داری یہ ہے محض مکالمے سے آگے بڑھیں اور عمل کی طرف جائیں، ایسے حل اپنائیں جو سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور پسماندہ افراد شامل ہوں۔
آصفہ بھٹو نے یہ بھی کہا کہ ایسے فورمز کی کامیابی بیانات میں نہیں بلکہ زمین پر بہتر زندگیوں میں ناپی جاتی ہے، مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ اور ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے، ہر کمیونٹی ناصرف بحران کا مقابلہ کرے، اُمید کرتی ہوں کہ یہ شرکاء کے لیے ایک کامیاب اور متاثر کن فورم ثابت ہو گا۔