• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومتی کمٹمنٹ ملی تو الیکٹرک بائیکس اور بسز کی فیکٹری پاکستان منتقل کرنے کو تیار ہیں: ملک سلیم

— تصویر بشکریہ جیو نیوز
— تصویر بشکریہ جیو نیوز

جاپان کی معروف کاروباری شخصیت ملک سلیم نے کہا ہے کہ اگر حکومتِ پاکستان واضح کمٹمنٹ اور بائی بیک گارنٹی فراہم کرے تو وہ پاکستان میں الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک بسز کی مکمل مینوفیکچرنگ فیکٹری قائم کرنے کو تیار ہیں۔ 

روزنامہ جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے ہم چین میں الیکٹرک گاڑیاں، بسز، کاریں اور دیگر ہیوی وہیکلز تیار کر رہے ہیں جو چلی اور پیرو سمیت کئی لاطینی امریکی ممالک میں کامیابی سے فروخت ہو رہی ہیں۔

ملک سلیم کے مطابق اگر حکومتِ پاکستان ابتدائی طور پر ایک ہزار الیکٹرک بسز خریدنے کی گارنٹی دے یا بائی بیک ماڈل پر کمٹمنٹ کرے تو وہ اپنی موجودہ فیکٹری پاکستان منتقل کر سکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت حقیقی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی ہے، خاص طور پر آٹو سیکٹر میں پرزہ سازی کی، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر فیکٹریاں صرف اسمبلنگ تک محدود ہیں، جس کی وجہ سے نا تو بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہو رہا ہے اور نا ہی ٹیکنالوجی ٹرانسفر ممکن ہو پا رہا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسمبلنگ پر انحصار کے باعث پاکستان کو بھاری زرِ مبادلہ ٹیکسز اور امپورٹس کی صورت میں بیرونِ ملک منتقل کرنا پڑتا ہے۔ اگر مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ شروع ہو جائے تو نا صرف گاڑیوں اور بسوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ملک سلیم نے کہا کہ ہم اپنے چینی اور جاپانی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان میں 1ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اس کے لیے حکومت کی سنجیدہ معاونت، پالیسی سپورٹ اور بائی بیک کمٹمنٹ ناگزیر ہے۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ پاکستان کے لیے ناصرف معاشی بلکہ ماحولیاتی لحاظ سے بھی ایک اہم موقع ہے، جس سے ایندھن کے درآمدی بل میں کمی اور شہری آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید