• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی بحران کا خطرہ، ایران آخری لمحے تک لڑے گا: جیوپولیٹیکل ماہر

—کولاج بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—کولاج بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ پانچویں دن میں داخل ہو گئی ہے جبکہ خلیجی خطوں دبئی اور ابوظبی میں بھی میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، اس صورتِ حال نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

آسٹریا نژاد بلغاریائی جیوپولیٹیکل ماہر اور سیاسی سائنس دان ویلینا چکارووا نے بھارتی نشریاتی ادارے سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ دنیا اس وقت ایک غیر یقینی اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایران نے اہم بحری راستہ آبنائے ہرمز بند کر دیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے اور ماضی میں ایران نے کبھی اس راستے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا تھا کیونکہ چین اس کا بڑا خریدار ہے تاہم موجودہ صورتِ حال میں بتایا جا رہا ہے کہ صرف چینی جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

ویلینا چکارووا کے مطابق اگر امریکی بحریہ تجارتی جہازوں کو اس راستے سے گزرانے کے لیے سیکیورٹی فراہم کرتی ہے تو ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس کشیدگی کے باعث کئی عالمی انشورنس کمپنیاں بھی پیچھے ہٹ چکی ہیں۔

ویلینا چکارووا کا کہنا ہے کہ یہ جنگ آئندہ 4 سے 5 ہفتوں تک شدید شکل اختیار کر سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت، کمپنیوں اور عام شہریوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت ایسے حالات میں ہے جہاں وہ خود کو چاروں طرف سے گِھرا ہوا محسوس کر رہا ہے اور وہ ’آخری لمحے تک لڑنے‘ کی پوزیشن میں ہے۔

ویلینا چکارووا نے کہا کہ اس کے ساتھ ایران اپنے اتحادی گروپس اور نیٹ ورکس کو بھی متحرک کر سکتا ہے جس کے اثرات خطے سے باہر یورپ تک پہنچ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ایرانی نظام حکومت ایک پیچیدہ اور مضبوط ڈھانچہ رکھتا ہے اس لیے صرف فضائی حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں۔

چکارووا نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر ایک جیسے نہیں ہیں، امریکا کا ہدف ایران کے بیلسٹک میزائل، جوہری تنصیبات اور بحری طاقت کو کمزور کرنا ہے جبکہ اسرائیل اس سے آگے بڑھ کر ایران میں حکومتی تبدیلی چاہتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیو پولیٹیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں ممالک اور کمپنیاں اگر صرف ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی اپنائیں گی تو انہیں بڑے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ دنیا پہلے ہی یوکرین، غزہ اور تائیوان سمیت کئی عالمی کشیدگیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید