لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سوموٹو اختیارات محدود کر دیے۔
درخواست پر فیصلہ جسٹس جواد حسن اور جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جاری کیا۔
ریفرنس کی درخواست شہری ساجد حسین گوندل کے خلاف دائر کی گئی تھی، جنہوں نے 2019ء کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے تھے اور کمشنران لینڈ ریوینیو نےٹیکس آرڈیننس دفعہ 120 کے تحت گوشواروں کو ڈیمڈ ٹیکس اسیسمنٹ قرار دیا تھا۔
جس پر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ڈیمڈ ٹیکس اسیسمنٹ میں ترمیم کے اختیار کو محدود کر دیا۔
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کی جانب سے فیصلے میں کہا ہے کہ سیکشن 122(5A) کھلی چھٹی کا اختیار نہیں اور ٹیکس گوشواروں میں مبینہ غلطی ریکارڈ سے واضح اور قابلِ ثبوت ہونی چاہیے۔
بینچ کی جانب سے حسابی فرق یا قیاس آرائی پر کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریونیو مفاد کے نام پر بلاجواز ترمیم کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہر غلطی سیکشن 122(5A) کے تحت قابلِ اصلاح نہیں ہے۔