عمران خان کی بیرسٹر سلمان صفدر سے اڈیالہ جیل میں ہونیوالی ملاقات کے بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ عدالتی اور انتظامی رویّوںمیں اچانک نمودار ہونیوالی نرمی اور ریاستی و سیاسی حلقوں میں بڑھتی ہوئی خاموش سرگرمیاں یہ سب اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کی کڑیاں ہیں۔تین برس تک ریاست اور عمران خان کے درمیان جو محاذ آرائی جاری رہی وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سخت ترین کشمکشوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔ یہ محض اقتدار کی جنگ نہیں تھی بلکہ بیانیے، وقار، اختیار اور طاقت کی لڑائی تھی۔اسی پس منظر میں جب آج کچھ نرم اشارے دکھائی دیتے ہیں تو سوال یہ نہیں رہتا کہ یہ کیوں ہو رہے ہیں، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ اب تک کیوں نہیں ہو رہے تھے۔بیرسٹر سلمان صفدر کی عمران خان سے ملاقات محض ایک وکیل اور موکل کی رسمی ملاقات نہیں تھی۔ اس ملاقات نے ایک ایسی رپورٹ کو جنم دیا جو قانونی ہونے کیساتھ ساتھ سیاسی بھی ہے۔ رپورٹ میں عمران خان کی صحت سے متعلق جو تفصیلات سامنے آئیں وہ کسی بھی حساس ریاست کیلئے تشویش کا باعث ہو سکتی ہیں۔ دائیں آنکھ سے کم نظر آنا، دانتوں میں شدید تکلیف اور ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی نہ ملنا یہ سب باتیں محض طبی نکات نہیں رہتیںبلکہ ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ ریاستی رویّے پر سوالیہ نشان بن جاتی ہیں۔ جب یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تو دراصل معاملہ ایک جیل سیل سے نکل کر ریاست کے ضمیر کے سامنے رکھ دیا گیا۔ عمران خان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اسکی سیاست پر تنقید ہو سکتی ہے اسکے فیصلوں کو غلط کہا جا سکتا ہے مگر انکی صحت اور وقار کو نظرانداز کرنا کسی بھی صورت ٹھیک نہیں۔ شاید یہی احساس ہے جس نے عدالتی اور انتظامی سطح پر کچھ ایسی اجازتوں کو ممکن بنایا جو کچھ عرصہ پہلے تک ناممکن دکھائی دیتی تھیں۔ بچوں سے بات کرنے کی اجازت طویل ملاقاتیں طبی معائنے کا حکم اور مقدمات کو یکجا کرنے جیسے فیصلے اس بات کا اشارہ ہیں کہ ریاست بھی اب اس کشمکش کو غیر معینہ مدت تک کھینچنے کے حق میں نہیں۔یہ سوال اہم ہے کہ آخر یہ نرمی کیوں دکھائی جا رہی ہے۔ گزشتہ تین برس میں جو کچھ ہوا اس نے ثابت کیا کہ مکمل تصادم نے نہ ریاست کو مضبوط کیا نہ سیاست کو ۔یہاں تحریک انصاف کا کردار بھی غور طلب ہے۔ عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ اور جیل میں انکی حالت یقیناً پارٹی کیلئے وقتی فائدے کا باعث بن سکتی ہے مگر یہ کتنی دیرپا ہوگی؟ اگر پارٹی نے اس کیفیت کو صرف احتجاج اشتعال اور تصادم کی سیاست میں بدل دیا تو ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر اسی دائرے میں پھنس جائے جس سے نکلنے کے آثار اب نظر آ رہے ہیں۔احتجاج کی سیاست تب مؤثر ہوتی ہے جب تنظیم مضبوط ہوقیادت متحد ہو اور عوامی مزاج ہم آہنگ ہو۔ موجودہ حالات میں تحریک انصاف ان تینوں محاذوں پر کمزور دکھائی دیتی ہے۔ کارکن تھکے ہوئے ہیں قیادت بکھری ہوئی ہے اور ریاست کسی بڑے عوامی تصادم کے موڈ میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر احتجاج کا راستہ اختیار کیا گیا تو اسکے نتائج محدود اور نقصانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
شاید یہی ادراک پارٹی کے اندر بھی موجود ہے اسی لیے حالیہ بیانات میں اشتعال کے بجائے شکوہ اور سوال زیادہ نمایاں ہے۔اسی دوران ریاستی سطح پر بھی کچھ ایسی سرگرمیاں نظر آ رہی ہیں جو محض اتفاق نہیں لگتیں۔ وزیراعظم اور کے پی کے وزیراعلیٰ کی ملاقات خیبرپختونخوا میں اعلیٰ سطحی سیکورٹی روابط ایپکس کمیٹی کے اجلاس سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب نظام کسی بند گلی میں داخل ہو جائے تو پس پردہ رابطے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ یہ رابطے محبت یا مفاہمت کیلئے نہیںبلکہ تصادم سے بچاؤ کیلئے ہوتے ہیں۔یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی ڈیل ہو رہی ہے؟ اس سوال کا سیدھا جواب شاید نفی میںہے۔ مگر یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ کوئی رابطہ یا فہم موجود نہیں،زیادہ مناسب لفظ شاید سیز فائر ہے۔ لیکن اگر یہ سمجھ لیا گیا کہ چند رعایتیں دے کر مسئلہ حل ہو جائیگا تو یہ غلط فہمی ہو گی۔ عمران خان ایک فرد نہیں ایک علامت ہے اورعلامتوں کوختم نہیں کیا جا سکتا۔
اگر سیاسی عمل کو چلنے کا موقع نہ دیا گیا تو یہی علامت کسی اور صورت میں دوبارہ ابھر سکتی ہے۔اسی طرح تحریک انصاف کیلئے بھی یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے۔ یہ ماننا پڑئیگا کہ ریاست کے ساتھ مستقل محاذ آرائی نے پارٹی کو وہ نقصان پہنچایا جو شاید کسی مخالف نے بھی نہیں پہنچایا۔ اگر واقعی عمران کی حالت سلمان صفدر کی رپورٹ اور عدالتی نرمی کو ایک نئے سیاسی باب کا آغاز سمجھا جا رہا ہے تو پھر اس باب کو حکمت صبر اور سیاسی بصیرت سے لکھنا ہو گا ۔ ہونا کیاچاہیے؟ سب سے پہلے عمران خان کی صحت کو سیاست سے الگ کیا جانا چاہیے۔ یہ ریاست کی اخلاقی آئینی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ دوسرا عدالتی عمل کو شفاف اور تیز بنایا جائے تاکہ الزامات خود بخود دم توڑ دیں۔ تیسرا تحریک انصاف کو ایسا راستہ تلاش کرنا ہو گا جو تصادم کے بجائے مکالمے کی طرف لے جائے۔پاکستان اس وقت کسی ایک شخص یا جماعت کے بحران میں نہیںبلکہ اعتماد کے بحران میں ہے۔ عمران خان کی جیل میں حالت سلمان صفدر کی رپورٹ ریاستی نرمی کے اشارے اور پس پردہ سرگرمیاں سب اسی بحران کی علامات ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک اور طویل سیاسی تصادم کا متحمل ہو سکتا ہے۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ نرمی محض ایک وقفہ نہیں بلکہ ایک موقع ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ جو قومیں موقع ضائع کرتی ہیں وہ پھر طویل عرصے تک ان کا خمیازہ بھگتتی ہیں۔