• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی پنجاب کے دور افتادہ پورے گاؤں کے تقریبا ً تمام افراد برسوں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کے سائبر فراڈ میں ملوث

کراچی (اسد ابن حسن) سائبر نوسر بازوں کا جدید فراڈ کا ایک نیا حربہ جنوبی پنجاب کے ایک دور افتادہ پورے گاؤں کے تقریبا تمام افراد برسوں سے سائبر فراڈ میں ملوث ہیں۔ دن بہ دن وہ نئے نت نئے طریقے استعمال کرکے روزانہ کی بنیادوں پر لاکھوں روپے کے فراڈ کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ان پڑھ ہیں مگر صاحب فراڈ کے ماہر ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اہلکار وہاں چھاپہ مارنے سے اجتناب برتتے ہیں کیونکہ ان کو اسلحہ ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور پولیس کو ساتھ لے کر جاتے ہیں اور ایسے ہی ایک واقعے میں ایک ہلاکت بھی ہو چکی ہے۔ ان فراڈیوں نے جو اب نیا طریقہ اپنایا ہے وہ بہت ہی دلچسپ ہے اور لوگوں کے اس جال میں پھنسنے کے بہت زیادہ چانسز ہیں۔ گزشتہ روز ایک شخص محمد رشید کو ایک میسج ریسیو ہوا جس میں اس کا نام اور شناختی کارڈ نمبر لکھا ہوا تھا۔ ساتھ میں یہ بھی تحریر تھا کہ اس کے یو بی ایل اکاؤنٹ میں ویسٹرن یونین کے اکاؤنٹ سے 698700(چھ لاکھ 98 ہزار 700 روپے) جمع کروا دیئے گئے ہیں۔ اس کے بعد اس جعلی منی ٹرانسفر چٹ پر بھیجنے والے کا جو موبائل نمبر تحریر تھا اس سے رشید کو فون آتا ہے اور فراڈیہ کہتا ہے کہ میں دبئی میں موجود ہوں، میرے کراچی کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد ہوگئے ہیں اور مجھے فوری طور پر ایک لاکھ روپے بھجوا دو کیونکہ میں نے تمہارے یو بی ایل اکاؤنٹ میں ساڑھے چھ لاکھ جمع کروا دیئے ہیں۔
اہم خبریں سے مزید