کراچی (اسد ابن حسن) نیشنل سائبر کرائم انڈسٹگیشن ایجنسی کے 77اہلکار جن کے اٹھ برس بعد کانٹریکٹ کی تجدید نہ کی گئی اور نوکری سے فارغ ہو گئے ان میں سے 40اہلکاروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ائینی درخواست دائر کی۔ 28صفحات کی درخواست کے ساتھ 15 این اینکژرز بھی منسلک کیے گئے۔ دوران سماعت جب عدالت نے مدعیوں یہ وکیل سے یہ پوچھا کہ نوکری سے برخاصی کے لیٹر کہاں ہیں۔ کیونکہ ایجنسی انہیں کانٹریکٹ کی تجزیح نہیں کی تھی اور اس کے لیے نوکری سے برخا سیکھ کے لیٹر جاری کرنا ضروری نہیں ہوتا لہذا وکیل وہ لیٹر پیش نہ کر سکے۔ عدالت نے اسٹے ارڈر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اگلی پیشی پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی اعلی انتظامیہ کے افسران کو طلب کر لیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ ماہ بھی فیز ٹو کے اہلکاروں نے اور اس کے بعد فیچ تھری کے نوکری سے فارغ افسران کا اپنی نوکری پر ریگولرائزڈ ہونے کی درخواست پر بھی سماعتیں ہوئی تھی جس میں ایجنسی کے ڈائریکٹر ایڈمن نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ افسران کی ریگولرائزیشن کا کیس وفاقی کابینہ کو بھیجا ہوا ہے اور کابینہ نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا جس پر عدالت نےحکم جاری کیا کہ ایک ماہ کے اندر رولز اور ریگولیشن تیار کیے جائیں اور اگلی سماعت 21فروری کو مقرر کی ہے۔ یہاں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ایجنسی 2008کے فیز تھری کے 77اہلکاروں کو فارغ کیا گیا، فیز ٹو کے 2012 میں بھرتی اہکاروں کے کانٹریکٹ بھی مئی میں ختم ہو رہے ہیں، فیز ون کے 2005میں بھرتی اہلکاروں کے ریگولرائزیشن کے حوالے سے عدالتی کاروائیاں زیر التوا ہیں اور ان کی نوکریوں پر بھی تلوار لٹک رہی ہے اور دوسری طرف ایک دفعہ پھر 258 نئے اہلکاروں کو ایجنسی میں بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔