• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا بی این پی کی کامیابی کے بعد بھارت بنگلا دیش تعلقات کی بحالی ممکن؟

کراچی (نیوز ڈیسک) کیا بی این پی کی کامیابی کے بعد بھارت بنگلا دیش تعلقات کی بحالی ممکن ہے؟ رابطوں میں سرد مہری، مودی کی مبارکباد، بنگلہ دیش کے جمہوری، ترقی پسند اور شمولیتی مستقبل کی حمایت، سرحد پر سختی، ویزا پابندیاں، نقل و حمل محدود، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے تعلقات بحال ممکن، لیکن اعتدال اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ طارق رحمن واضح طور پر بھارت سے تعلقات مستحکم کرنیکی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ کام آسان نہیں۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی (بی این پی) کی تاریخی فتح کے بعد بھارت نے محتاط گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے 60سالہ رہنما طاریق الرحمن کو "فیصلہ کن فتح" پر مبارکباد دی اور جمہوری، ترقی پسند اور شمولیتی پڑوسی کی حمایت کا وعدہ کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ مودی کے پیغام کا لہجہ مستقبل کی طرف دیکھنے والا اور محتاط تھا۔ جولائی 2024 میں شیخ حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی، اور باہمی عدم اعتماد بڑھ گیا۔ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا، جبکہ بنگلہ دیشی عوام بھارت پر حسینہ کی بڑھتی ہوئی آمرانہ حمایت کا الزام لگاتے ہیں۔
اہم خبریں سے مزید