• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج موضوعات کی بہتات ہے بنگلا دیش میں نیشنلسٹ پارٹی عوامی طاقت سے جماعت اسلامی کو پچھاڑتے ہوئے دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے یہ بہت اہم موضوع ہے دوسری طرف اسلام آباد کے خودکش حملے کے حوالے سے کچھ تشنہ پہلوؤں پر توجہ مرکوز کروانی ہے تیسری طرف واشنگٹن میں غزہ بورڈ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے بھی کچھ پہلو قابل التفات ہیں چوتھی طرف نیٹ میٹرنگ ختم کرتے ہوئے حکومت سولر صارفین پر جو بم پھوڑنے جا رہی ہے اس پر خامہ فرسائی کا ارادہ ہے۔ انھی دنوں ایکسپو سینٹر میں شاندار بک فیئر منعقد ہوا، جمخانہ کے دلچسپ الیکشن ہوئے اور الحمرا میں فیض امن میلہ جیسی خوبصورت تقریب میں شرکت کے مواقع میسر آئے۔ جی چاہ رہا ہے ان سب پر قلمکاری کرتے ہوئے دلچسپ اور قابل توجہ پہلو اجاگر کیے جائیں لیکن سب سے پہلے کولمبو میں ہونے والا پاک بھارت کرکٹ میچ جو ان دنوں عوامی سطح پر سب سے زیادہ ڈسکس ہونے والا موضوع بنا ہوا ہے۔ بلا شبہ کرکٹ ایک خوبصورت مہذب کھیل ہے لیکن نہ جانے کیوں ہم اسے کھیل کی بجائے زندگی موت یا حق و باطل کی جنگ بنا لیتے ہیں مقابلہ اگر بھارت سے ہوتو پھر بھی ہمیں اتنا پرجوش نہیں ہونا چاہیے۔ بنیادی طور پر ہم ہر دو ممالک کے عوام ایک ہی خطے، ایک ہی دھرتی کے باسی ہیں دونوں اطراف ایک جیسے ہمارے اپنے ہی بچے ہیں، ایک جیسا رہن سہن بودوباش، ایک جیسے لب و لہجے، ایک جیسی زبان، ایک جیسے گلے شکوے، ایک جیسی بھاونائیں یا تمنائیں، یوں بھی ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اس میںغصے والی کون سی بات ہے؟ظاہر ہے محنت اور لگن سے جو اچھا کھیلے گا وہ جیتے گا ، نہ جانے کیوں ہمارے لوگ اس قدر مناجاتیں اور دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں کہ یا مولیٰ ہمیں کسی بھی طرح انڈیا سے میچ جتوا دے اور ہمارے کھلاڑی بھی موقع بے موقع اس نوع کی گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں کہ آپ لوگ ہماری کامیابی کیلئے دعا کریں اور پھر جب ہار جاتے ہیں تو فوری بعد اس طرح کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ پچیس کروڑ میں سے آخر کیوں کسی ایک کی بھی دعا قبول نہیں ہوئی ؟ درویش جب گاؤں میں ہوتا تھا تب اس طرح کی کرٹیکل صورتحال میں کئی سیانے، بچہ لوگوں کو بعد نماز فجر مسجد سے اپنے گھروں میں آیت کریمہ پڑھانے کے لیے بلاتے تھے جو کھجوروں کی گٹھلیوں پر پڑھا جاتا تھا اور اچھا کھانا بھی دیا جاتا تھا۔ اگر نا چیز کبھی مولوی صاحب سے کہتا کہ ہمارے علامہ اقبال نے تو کہہ رکھا ہے کہ"تیری دعا سے قضا بدل نہیں سکتی"یا یہ کہ "کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی.... اے پیر حرم تیری مناجاتِ سحر کیا" تو میرے دادا منع کرتے ہوئے گویا ہوتے،پتر ایسے نہیں کہتے دعاؤں میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ کئی بزرگ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکم ہے تُو حیلہ کر، اوپر والا وسیلہ کرے گا۔اپنی کرکٹ ٹیم اور کرکٹ کے طاقتوروں کی خدمت میں التماس ہے کہ اوپر والے کو وسیلہ بنانے سے پہلے آپ لوگ حیلہ تو کریں ،حیلہ سے مراد ہے کہ آپ لوگ کرکٹ میں موجود اپنی خامیاں دور فرمائیں اگرچہ ہار جیت گیم کا حصہ ہے لیکن یہ بھی تو کوئی بات نہ ہوئی کہ جب بھی پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا ہوتا ہے،خاص طور پر ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں ہر بار انڈیا ہی کیوں جیت جاتا ہے؟انڈیا سے سبکی میںہم ہیٹرک سے بھی کہیںآگے کیوں بڑھ چکے ہیں ۔جب کہ بڑھکیں ہانکنے میں ہم لوگ سب سے آگے ہیں۔کچھ لوگ نام لے لے کر اپنے کھلاڑیوں کو کوستے ہیں سلمان آغا، بابر اعظم، صاحبزادہ فرحان نے مروا دیا ہے کچھ کہتے ہیں شاہین آفریدی، ابرار اور شاداب کو ٹیم سے نکالو۔ کھیل میں فتح کے ساتھ شکست بھی ہوتی ہے لیکن ایسی شکست تو نہیں ہونی چاہیے کہ ہماری ٹیم بیس اوور بھی مکمل نہ کر سکے اور ڈھیر ہو جائے۔ ایسا کھیل تو ڈومیسٹک گیمز میں بھی نہیں ہوتا ۔اگر سچائی سے تجزیہ کیا جائے تو ہماری کرکٹ میں نہ کوئی پالیسی ہے نہ ویژن نہ انفراسٹرکچر نہ مینجمنٹ ہم انوکھے لوگ ہیں جو بطور ٹیم نہیں شاید انفرادی و مفاداتی کھیلتے ہیں بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایسی کیا مجبوری ہےکہ پی سی بی کا چیئرمین بھی کل وقتی نہیں جز وقتی ہے؟

تازہ ترین