• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ کالم میں محترمہ بینظیر بھٹوکے ملکی ایٹمی پروگرام میں اہم کردار کا ذکر کیا تھا اس بار انکی کچھ یادیں نذر قارئین ہیں، مجھے یاد ہے کہ جب بے نظیر بھٹو لندن سے کراچی ہوائی اڈے پر پہنچیں تو سارے ملک سے آئے ہوئے لاکھوں لوگوں نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا‘ میں بھی ایک صحافی کی حیثیت میں ان کے استقبال کی کوریج کیلئےایئر پورٹ پر پہنچ گیا تھا جو لوگ ان کے ساتھ ہوائی جہاز میں پہنچے تھے ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ جب جہاز ہوائی اڈے پر اترا تو ان کا استقبال کرنے کیلئے لاکھوں لوگ موجود تھے۔ پارٹی کے کچھ رہنمائوں نے بے نظیر بھٹو کو روکا کہ وہ آسمان کے نیچے کھڑے ہوکر خطاب نہ کریں کیونکہ ان پر حملہ ہوسکتا ہے ۔جواب میں محترمہ نےکہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ لوگ پتہ نہیں کہاں کہاں سے ان کا استقبال کرنے کیلئےیہاں پہنچے ہیں اور وہ خود ہوائی جہاز کے اندر بیٹھی رہیں؟ یہ کہہ کر وہ باہر آسمان کے نیچے آکر کھڑی ہوگئیں اور ہوائی جہاز پر بنائے گئےاسٹیج پر کھڑے ہوکر تقریر کرنے کیلئے آگے بڑھیں۔ اب بھی پارٹی رہنمائوں نے محترمہ کو روکا مگر وہ نہیں مانیں اور انتہائی بہادری سے تقریر کرنی شروع کردی۔ بے نظیر بھٹو ائیر پورٹ سے باہر آئیں تو ایک ٹرک ان کیلئےتیار کھڑا تھا‘ وہ ٹرک پر چڑھ گئیں وہاں بھی ایک اسٹیج بنایا گیاتھا، یہاں بھی پارٹی کے کچھ سینئر رہنمائوں نے محترمہ کو اسٹیج پر کھڑے ہوکر تقریر کرنے سے منع کیا مگر محترمہ ایک بار پھر نہیں مانیں اور یہ کہہ کر اسٹیج پر آکر کھڑی ہوگئیں کہ پارٹی کا رکن اتنی بڑی تعداد میں ان کا استقبال کرنے آئے ہیں او ر وہ چھپتی رہیں۔پھر لاکھوں پارٹی کارکنوں کے ساتھ محترمہ کا ٹرک شہر کی طرف رواں دواں ہوا ، کارکن پیدل ٹرک کے ساتھ نعرے لگاتے ہوئے چلے،بعد میں جب ٹرک اور جلوس پل کے اوپر پہنچا تو ٹرک کے پاس ایک بم پھٹا جس سے کئی پارٹی کارکن زخمی ہوگئے مگر جلوس رکا نہیں آگے بڑھتا رہا۔ زخمی کارکنوں میں زیادہ تعداد لیاری کے لوگوںکی تھی۔اس ساری گھمبیر صورتحال کے باوجود ٹرک اور نعرے لگاتے ہوئے پارٹی کارکن آگے بڑھتے رہےاس طرح یہ جلوس بلاول ہائوس تک پہنچ گیا۔ بم بلاسٹ میں جو پارٹی کارکن زخمی ہوئے تھے ان کو اسپتال پہنچایا گیا۔

واضح رہے کہ اسی کی دہائی میںمیر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کابل چلے گئےتھے۔ وہاںدونوں بھائیوں نے دو افغان خواتین سے شادی کرلی۔ کچھ عرصے کے بعد دونوں بھائی اپنی بیویوں کے ساتھ فرانس چلے گئے اسی دوران شاہنواز بھٹو اچانک انتقال کرگئے۔ اطلاعات کے مطابق شاہنواز بھٹو کوکسی نے زہر دیکر قتل کیاتھا۔ اس کے بعد مرتضیٰ بھٹو اپنی بیوی کو ساتھ لیکر کراچی آگئے اور وہاں رہنے لگے‘ محترمہ بے نظیر بھٹو فوری طور پر فرانس گئیں اور شاہنواز بھٹو کی ڈیڈ باڈی کو کراچی لائیں جہاں اسے بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قبر کے قریب دفن کردیا گیا پھر میر مرتضیٰ بھٹو بھی لاڑکانہ آگئے اور پارٹی کارکنوں کی قیادت کرنے لگے اسی دوران کچھ نامعلوم دہشتگردوں نے گولیاں مارکر 70کلفٹن کے نزدیک میر مرتضیٰ بھٹو کو بھی قتل کردیا‘ مرتضیٰ بھٹو کی لاش نزدیکی اسپتال میں رکھی گئی‘ اس دوران محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم بن چکی تھیں حالانکہ اسی دوران بھٹو خاندان کے دشمن ذرائع نے یہ افواہیں پھیلا رکھی تھیں کہ بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ ایسا نہیں تھا‘ ایک بار حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ فلاں تاریخ کو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو پارلیمنٹ سے خطاب کریں گی اس اعلان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ جیسے ہی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو پارلیمنٹ سے خطاب کرنے کے لئے کھڑی ہوں گی تو مسلم لیگ (ن) کے پارلیمنٹرین کھڑے ہوکر آگے بڑھیں گے اور بے نظیر بھٹو کا گھیرائو کرلیںگے اس وقت میر مرتضیٰ بھٹو بھی کراچی میں تھے اور اس مرحلے پر وہ بھی پارلیمنٹ میں آئے ہوئے تھے ان کو گرائونڈ فلور پر اسپیکر گیلری میںبٹھایا گیا تھا‘ اس وقت میں پارلیمنٹ اجلاس کی کوریج کرنے کے لئے دیگر صحافیوں کے ساتھ اوپر پریس گیلری میں بیٹھا تھا‘ جب محترمہ بے نظیر بھٹو تقریر کرنے کے لئے کھڑی ہوئیں تو پی ایم ایل (ن) کے ارکان اٹھ کر آگے بڑھنے کی تیاری کرنے لگے اوراعلان کیا کہ وزیر اعظم کا گھیرائو کریں گے اور انکو تقریر کرنے نہیں دیں گے تو پی پی پارلیمنٹرین بھی تیاری کرکے آئے تھے کہ جیسے ہی محترمہ تقریر کرنے لگیں گی تو پی پی پارلیمنٹرین محترمہ کے گرد جمع ہوکرکھڑے ہوجائیں گے۔ میر مرتضیٰ بھٹو بھی تیار کرکے آئے تھے کہ اگر پی ایم ایل (ن) کے پارلیمنٹرین محترمہ کا گھیرائو کریں گے تو ان سے پہلے گیلری سے جمپ کرکے نیچے آئیں گے اور وہ جاکر محترمہ کے آگے کھڑے ہوجائیں گے لہٰذا مرتضیٰ بھٹو اپنی سیٹ سے اٹھ کر پارلیمنٹ میں کودنے کی تیاری کررہے تھے تو پیپلز پارٹی کے ممبران اٹھ کر آئے اور محترمہ کے گرد جمع ہوگئے اس طرح پی ایم ایل (ن) والے محترمہ کو ڈسٹرب نہ کرسکے اور محترمہ پوری آن وشان سے تقریر کرتی رہیں۔ میں یہاں اس بات کا بھی ذکر کرونگاکہ جب میر مرتضیٰ بھٹو کو شہید کردیا گیا اوریہ خبر محترمہ تک پہنچی تو وہ اپنے کمرے سے ننگے پائوں باہر نکلیں اور ڈرائیور سے کہا کہ اس اسپتال تک چلو جہاں میر مرتضیٰ بھٹو کی لاش پڑی ہوئی ہے بعد میں محترمہ میر مرتضیٰ بھٹو کی لاش 70 کلفٹن لے آئیں جہاں سے انکی میت کولاڑکانہ لے جایاگیا اور بھٹو خاندان کے قبرستان میں شاہنواز بھٹو کی قبر کے نزدیک دفنایا گیا۔

تازہ ترین