• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ گل پلازا: غفلت میں ڈوبے حکمرانوں، انتظامیہ کیلئے ویک اپ کال

نگہت شفیع، کراچی

عروس البلاد، کراچی، جو ’’مِنی پاکستان‘‘ بھی کہلاتا ہے، آج ایک مرتبہ پھر سخت سوگوار ہے۔ یہ شہر، ’’جو کبھی ہم بھی خُوب صُورت تھے‘‘ کے مصداق راتوں کو جاگتا تھا، اب دن کا اُجالا بھی اس کا درد کم نہیں کرپارہا۔ 

شہرِ قائد گزشتہ چالیس سال سےآگ وخون میں ڈوبا ہوا ہے۔ آئے روز رُونما ہونے والے جان لیوا حادثات، لُوٹ مار اور قتل وغارت گری نے اس ہنستے بستے شہر کو گویا غم واندوہ کا مسکن بنا دیاہے۔ اہلِ کراچی ابھی ایک سانحہ بُھول نہیں پاتے کہ دوسرا اور پہلے سے بھی بڑا ایک اور سانحہ رُونما ہوجاتا ہے۔ 

گزشتہ دِنوں شہر کا معروف تجارتی مرکز، گُل پلازا جل کرراکھ ہوگیا، درجنوں افراد سوختہ لاشوں میں تبدیل ہوگئے۔ روشنیوں سے جگمگاتا گُل پلازا آگ کے شعلوں میں اِس طرح گھرا کہ اندر پھنسے رہ جانےوالے دُکان داروں، خریداروں میں سےکوئی زندہ سلامت نہ رہا۔ بس، سوختہ بدن، بکھرے اعضاء، مدفون آرزوئیں، پیاروں کو ڈھونڈتی آنسو بَھری آنکھیں اور سراسیمہ چہرے سوالیہ نشان بنے رہ گئے۔

قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ مُلک کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں مقیم شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کے ضمن میں حُکّامِ وقت کی آنکھیں ہمیشہ بند رہتی ہیں، متعلقہ ادارے غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ساڑھے تین کروڑ سے زائد آبادی کا یہ شہر، جس نے ایک ماں کی مانند مُلک کے ہرصوبے، ہر ہر شہر کے باسیوں کو اپنی آغوش میں سمیٹ رکھا ہے، آج بے بسی کی تصویر بنا ہواہے۔ 

مُلکی معیشت کا70فی صد بوجھ اُٹھانے والا یہ شہر آج زخموں سے چُور چُور ہے اور ایسا لگتا ہے، ٹوٹی پُھوٹی سڑکیں، کُھلے مین ہولز، صفائی کے ناقص انتظامات، دِن دِیہاڑے لُوٹ مارکے واقعات، قتل وغارت گری، منہ زور ٹینکرمافیا، کچرے کے انبار، مارکیٹوں میں بھڑکتی آگ کے شعلے اورجا بہ جا جُھولتے بجلی کے تار شہریوں کا مقدّر بن چُکے ہیں۔

شہر میں خدمات کی فراہمی کےذمّے دار اداروں کی بھرمار ہے، لیکن کام ندارد۔ متعلقہ ادارے کبھی فنڈز کی کمی کا رونا روتے ہیں، تو کبھی دیگر انتظامی مسائل کا جواز گھڑکر ترقیاتی کاموں میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ ہر سال اربوں روپے ان اداروں کے ملازمین کی تن خواہوں اور پینشن کے نام پرخرچ ہورہے ہیں، لیکن اہلِ کراچی بےبسی و بےچارگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ 

ہر سانحے کے بعد چند روز تک شور شرابا ہوتا ہے، حکومت، انتظامیہ کو بُرا بھلا کہا جاتا ہے اور ایک تفتیشی بورڈ یا جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا جاتا ہے، لیکن رفتہ رفتہ پھرسب فائلز بند ہوجاتی ہیں، ہرطرف خاموشی چھا جاتی ہے اوراُس سےبھی بڑے کسی اور سانحے کے رُونما ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ وہ کیا ہے کہ ؎ ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے ہیں… اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں۔

تاہم، سانحۂ گُل پلازاصوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک ’’ویک اپ کال‘‘ ہے۔ ابھی بھی وقت ہے، شہر کی انتظامیہ جاگے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے منظّم انداز سے شہر کی تمام مارکیٹس اور دفاتر کا سروے کروائے۔ شہر بَھر سے فی الفور تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ بازاروں میں دُکان داراپنا سامان منظّم طریقے سے رکھیں، تاکہ خریدار اور راہ گیر بآسانی گزرسکیں۔ 

کراچی کی کم و بیش تمام مارکیٹس ہی میں پتھارے داروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ افراد دُکانوں سے بجلی کا کنیکشن لینے کے بعد کُھلے اور ننگے تار جوڑ کر کاروبار کرتے ہیں اور ایسے میں اگر خدانخواستہ کسی وقت شارٹ سرکٹ ہوجائے، تو ایک بڑا حادثہ پیش آجاتا ہے، جس کی زد میں خریدار، راہ گیر سب آتے ہیں۔ 

اسی طرح متعدد انڈر گراؤنڈ مارکیٹس میں، آمدروفت کے راستوں اور سیڑھیوں پر، لوگ اپنا سامان رکھ کر کاروبار کررہے ہیں، جب کہ اندر دُکانوں میں بجلی کے تارجُھولتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی حادثہ رُونما ہوجائے، تو باہر نکلنے کا راستہ بند ہونے سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ 

یاد رہے، 1980ء کی دہائی میں گُل پلازا کی تعمیر کے وقت بیسمینٹ، گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور پر500 کے لگ بھگ دُکانیں بنائی گئی تھیں، جب کہ 1990ء کی دہائی میں اس کےمزید فلورز تعمیر ہوئے اور دُکانوں کی تعداد بڑھ کر کم و بیش 1200 تک ہوگئی۔ 

دریں اثنا، لوگوں نے مارکیٹ میں موجود رستوں پر بھی سامان رکھ کر خریدوفروخت شروع کر دی، جس کی وجہ سے آمدروفت کا راستہ بہت تنگ ہوگیا۔ اسی بدنظمی وبے قاعدگی کے سبب بھی بے تحاشا جانی و مالی نقصان ہواہے۔ مستقبل میں سانحۂ گُل پلازا جیسے الم ناک واقعات سے بچاؤ کے لیے ذیل میں چند تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔

٭ شہر کےتمام بڑےتجارتی مراکز میں فی الفور سیفٹی الارمزنصب کیے جائیں، تاکہ کسی ناخوش گوار واقعے کی صُورت میں وہاں موجود لوگوں کو بروقت آگہی حاصل ہو سکے۔ ٭ فائر سیفٹی کا مستقل نظام بنایا جائے۔٭ تمام تجارتی مراکز کے بند ہونے کا وقت مقرّر کیا جائے اور اسے تمام داخلی وخارجی راستوں پرآویزاں کیاجائے، تاکہ خریدارمارکیٹ بند ہونے سے پہلے ہی خریداری کاسلسلہ موقوف کرکے باہر نکلنا شروع کردیں اور پیشگی اطلاع کے بغیر گیٹس بند نہ کیے جائیں۔٭ مارکیٹس کے تمام راستوں، فُٹ پاتھس اور سیڑھیوں کی مرمّت کی جائے، تاکہ لوگوں کو گزرنے میں آسانی ہو۔٭ فائر بریگیڈ کےعملے کو جدید تربیت فراہم کی جائے اور آگ بُجھانے والی تمام گاڑیوں کوہمہ وقت مطلوبہ آلات اور سامان سے پوری طرح لیس رکھا جائے، نیز فائر بریگیڈ عملے کو ہمہ وقت چاق چوبند رہنےکا ُکم دیا جائے۔ واضح رہے، سانحۂ گُل پلازا میں اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کے لقمۂ اجل بننے کی بڑی وجوہ میں فائربریگیڈ کا تاخیر سے پہنچنا، عملےکی ناقص تربیت اور واٹر ٹینکرز کی عدم دست یابی بھی شامل ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے سیاست دان ہر سانحے کے بعد لاشوں پر سیاست اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں، لیکن متاثرین کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوتا۔ سانحۂ گُل پلازا میں کسی کا باپ، کسی کا شوہر، کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا اورحتیٰ کہ خواتین اور بچّے بھی بےگوروکفن سوختہ لاشوں میں تبدیل ہو گئے۔ اُن کی اُڑتی راکھ یہ بَین کرتی پِھر رہی ہےکہ ہم بے بس و لاچار اُس کراچی کے رہنے والے تھے کہ جو سب کا ہے، لیکن اُس کا کوئی نہیں۔ 

روزِ محشر یہ سوختہ بدن سیاست دانوں کا گریبان پکڑ کر ضرور پوچھیں گے کہ ’’ہمارا کیا قصور تھا کہ ہم اس طرح قبر کے اندھیروں میں چلےگئے۔‘‘ اےکاش!سانحۂ گُل پلازا کے بعد ہی ہمارے حُکم رانوں، سیاسی رہنماؤں کی آنکھیں کُھل جائیں اور وہ اپنے تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھ کر مُلک وقوم کی خدمت کے لیے یک جا ہو جائیں۔

سنڈے میگزین سے مزید