• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی تحقیق میں فضائی آلودگی اور گردوں کی مہلک بیماری میں تعلق کا انکشاف

کولاج فوٹو: فائل
کولاج فوٹو: فائل

نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فضائی آلودگی گردوں کی مہلک بیماریوں کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ناقص فضائی معیار گردوں کی دائمی بیماری، اچانک گردوں کی ناکامی اور گردوں کے فیل ہونے کے باعث اسپتال میں داخلے سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

یہ تحقیق 2011 سے 2021 تک برازیل کے شہر ساؤ پالو میں کی گئی، جس میں 37 ہزار افراد کا ڈیٹا شامل تھا۔

نتائج کے مطابق 19 سے 50 سال کے افراد میں گردوں کی بیماری کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا جبکہ 51 سے 75 سال کے افراد میں یہ خطرہ 2.5 گنا زیادہ پایا گیا۔

مردوں میں اسپتال میں داخلے کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ خواتین میں یہ رجحان واضح نہیں پایا گیا۔

تحقیق کے پروفیسر لوسیا آندراڈے کے مطابق پارٹیکولیٹ میٹر خون میں داخل ہو کر گردوں کے ٹشوز میں جمع ہو سکتا ہے، جسے مدافعتی نظام غیر ملکی جسم سمجھ کر ردعمل دیتا ہے۔ اس سے سوزش، فائبروسس اور قبل از وقت بڑھاپے کے عوامل پیدا ہوتے ہیں۔

یہ بیماری اکثر بغیر علامات کے بڑھتی ہے اور مریض اس وقت تک لاعلم رہتے ہیں جب تک گردے ناکامی کے قریب نہ پہنچ جائیں۔

تحقیق کے دوران اوسط فضائی آلودگی عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حد سے تین گنا زیادہ تھی۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کم سطح کی آلودگی بھی گردوں کی بیماریوں کے خطرے سے جڑی ہوئی ہے۔

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر ایارا ڈا سلوا نے کہا کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حد کے اندر بھی گردوں کی بیماریوں سے اسپتال میں داخلے کا تعلق پایا گیا۔ اس لیے فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

صحت سے مزید