• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کانگو اور یوگینڈا میں ایبولا کا خطرناک پھیلاؤ، ہنگامی صورتحال نافذ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

کانگو اور یوگینڈا میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلنے پر عالمی ادارۂ صحت نے عالمی ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے، اس وباء سے اب تک 88 افراد ہلاک جبکہ 336 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

یہ وباء کانگو کے مشرقی صوبے ایتوری سے شروع ہوئی جہاں کان کنی کے علاقے مونگوالو میں متاثرہ افراد نے مختلف شہروں کا سفر کر کے وائرس پھیلایا، بعد ازاں وائرس یوگینڈا تک پہنچ گیا جہاں دارالحکومت کمپالا سے بھی ایک ہلاکت سامنے آئی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ وباء ایبولا کی نایاب ’بندی بوجیو‘ قسم کی ہے جس کے لیے تاحال نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی مخصوص علاج۔ 

حکام کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی شرحِ اموات 50 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی آمد و رفت، کمزور طبی نظام اور مشرقی کانگو میں جاری بدامنی وباء پر قابو پانے میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے، ادارے نے پڑوسی ممالک کو سخت نگرانی، فوری آئسولیشن اور متاثرہ افراد کی مسلسل مانیٹرنگ کی ہدایت دی ہے۔

ادارۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ صورتِ حال سنگین ضرور ہے تاہم اسے ابھی عالمی وباء قرار نہیں دیا گیا جبکہ سرحدیں بند کرنے اور تجارت روکنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کانگو میں 1976ء سے اب تک ایبولا کے 17 بڑے پھیلاؤ سامنے آ چکے ہیں جبکہ 2018ء سے 2020ء کے دوران آنے والی بدترین وباء کے سبب تقریباً 2300 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

صحت سے مزید