ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ زندگی میں 3 اہم تبدیلیاں لا کر ذیابیطس کے خطرے کو 31 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ تحقیق 6 سال تک جاری رہی جس میں 4700 افراد کو شامل کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق وہ افراد جنہوں نے متوازن غذا، کیلوریز میں کمی اور جسمانی سرگرمی کو اپنایا، ان میں ذیابیطس کا خطرہ نمایاں حد تک کم دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں، ثابت اناج، زیتون کا تیل، خشک میوہ جات اور بیجوں پر مشتمل غذا جسم میں سوزش کم کرتی ہے اور خون میں شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
تحقیق میں شامل افراد نے روزانہ تقریباً 600 کیلوریز کم استعمال کیں جس سے وزن، جسمانی چربی اور خون میں گلوکوز کی سطح بہتر ہوئی۔
صرف خوراک نہیں بلکہ روزانہ چہل قدمی، ہلکی ورزش اور وزن کم کرنے کی باقاعدہ رہنمائی بھی ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
محققین کے مطابق رضاکاروں کی جانب سے روزمرہ کی روٹین میں درج بالا تبدیلیاں لانے کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت بہتر ہوئی، جسمانی سوزش میں کمی آئی، وزن اور کمر کا سائز کم ہوا اور میٹابولزم بہتر ہوا۔
ماہرین نے خاص طور پر ان افراد کو یہ طرزِ زندگی اپنانے کا مشورہ دیا ہے جنہیں پری ذیابیطس کا خطرہ ہو، موٹاپے اور میٹابولک مسائل کا سامنا ہو اور خاندانی ذیابیطس کی تاریخ ہونے جیسے مسائل درپیش ہوں۔
تحقیق کے مطابق مستقل مزاجی کے ساتھ صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمی اپنانا ذیابیطس سے بچاؤ کا مؤثر اور قدرتی طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔