• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دل کی صحت کیلئے اہم پوٹاشیم کی جسم میں کمی کی علامات

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

ماہرین کے مطابق لاکھوں افراد دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار پوٹاشیم کی کمی کا شکار ہیں، مگر اکثر افراد اس سے بےخبر ہیں۔

پوٹاشیم اعصاب کے سگنلز، پٹھوں کی حرکت اور دل کی دھڑکن کو منظم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جسم میں سوڈیم کے اثرات کو کم کرکے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے، جس سے دل کے امراض اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ٹیسیڈ یونیورسٹی کے محقق پروفیسر جان ینگ کے مطابق پوٹاشیم کی کمی عام ہے اور اس کی بڑی وجہ غیر متوازن خوراک ہے۔

ہلکی کمی کی علامات میں پاؤں کی انگلیوں میں اکڑاؤ، قبض، چڑچڑاپن اور سر درد شامل ہیں جبکہ شدید کمی کی صورت میں مریض کو ذہنی الجھن، ڈپریشن جیسا موڈ، دل کی دھڑکن میں بےترتیبی، معدے کے مسائل اور سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

برطانوی ادارہ صحت (این ایچ ایس) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ 3,500 ملی گرام پوٹاشیم لینا چاہیے۔ تاہم برطانیہ کے نیشنل ڈائٹ اینڈ نیوٹریشن سروے کے مطابق 10 فیصد مرد اور 24 فیصد خواتین اس مقدار کو پورا نہیں کر رہے جبکہ ایک تہائی نوجوان بھی اس کمی کا شکار ہیں۔

ماہرین کے مطابق صرف کیلے پر انحصار کافی نہیں، کیونکہ روزانہ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تقریباً 10 درمیانے کیلے کھانے پڑیں گے۔ تاہم بہتر ذرائع میں تقریباً 600 ملی گرام آلو، 450 ملی گرام پالک، لوبیا، دہی، فروٹ جوس اور ٹونا مچھلی بھی شامل ہیں۔ 

پروفیسر ینگ کے مطابق صرف خوراک سے مطلوبہ مقدار حاصل کرنا مشکل ہے، اس لیے ملٹی وٹامن سپلیمنٹس لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں پوٹاشیم شامل ہو۔

گردوں کے مریضوں کے لیے پوٹاشیم کا زیادہ استعمال خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ جسم اضافی پوٹاشیم خارج نہیں کر پاتا، جس سے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور دل کی ناکامی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اگر کسی کو سینے میں درد یا ہلکی ورزش جیسے سیڑھیاں چڑھنے پر چکر آتے ہیں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ زیادہ تر افراد کے لیے یہ علامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ ان کی خوراک درست نہیں۔

گزشتہ سال ڈنمارک کے محققین نے پایا کہ کیلے، ایووکاڈو اور پالک سے بھرپور خوراک دل کی ناکامی اور موت کے خطرے کو تقریباً ایک چوتھائی کم کر سکتی ہے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید