نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ’سوشل اسموکنگ‘ یعنی کبھی کبھار سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں کو اتنا ہی نقصان پہنچتا ہے جتنا روزانہ کئی پیکٹ پینے والوں کو پہنچتا ہے۔
امریکی محققین نے بتایا کہ موجودہ لنگ کینسر اسکریننگ کے اصول تقریباً نصف کیسز کو نظرانداز کردیتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ تر ہیوی اسموکرز پر توجہ دیتے ہیں اور ان افراد کو نظرانداز کرتے ہیں جو برسوں تک کبھی کبھار سگریٹ پیتے رہے۔
تحقیق میں ایک ملین کے قریب 50 سے 80 سالہ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ عرصے تک سگریٹ پینے والے خطرے میں ظاہر ہوئے جبکہ صرف ’پیک ایئرز‘ میں سیگریٹ نوشی کرنے والے کم خطرے میں ظاہر ہوئے۔
موجودہ امریکی اصولوں کے تحت اگر کوئی شخص 15 سال سے سگریٹ نہیں پیتا تو اسے اسکریننگ کے لیے اہل نہیں سمجھا جاتا، چاہے اس نے ماضی میں کتنے ہی سال سگریٹ نوشی کی ہو۔
ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی کسی بھی مقدار میں پھیپھڑوں کے کینسر کا سب سے بڑا سبب ہے۔ برطانیہ میں ہر سال تقریباً 50 ہزار 200 نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور یہ دنیا بھر میں کینسر سے اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ چاہے سگریٹ نوشی معمولی ہی کیوں نہ ہو، یہ طویل مدتی طور پر پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی چھوڑنے سے خطرہ کم ضرور ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔