پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے پر راضی تھی۔ ڈاکٹر کے نام پر اتفاق نہ ہونے سے منتقلی نہ ہوسکی۔
ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو کم از کم 10 دن شفاء اسپتال میں رکھا جائے اور حکومت مکمل علاج تک بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں رکھنے پر راضی تھی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومتی شرط تھی علاج کی معلومات ظاہر کی جائیں گی نہ کارکنوں کا بلایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق جمعہ، ہفتہ کی درمیانی شب بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے انتظامات ہوچکے تھے اور بانی پی ٹی آئی اور پارٹی قیادت کے لیے گاڑیاں بھی تیار ہو چکی تھیں۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے رابطہ کرکے اہل خانہ میں سے نام بھی مانگا گیا تھا، بہنوں کی جانب سے ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر عظمیٰ کا نام دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی طرف سے دیے گئے ناموں کو حکومت نے تسلیم نہیں کیا جس پر ڈاکٹر برکی کا نام دیا گیا۔ حکومت نے ڈاکٹر برکی کا نام بھی مسترد کیا جس سے بانی پی ٹی آئی کی بہنیں برہم ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو بتایا گیا کہ حکومت نے قاسم زمان کا نام دیا ہے، حکومت کی جانب سے نام دینے پر قاسم زمان اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے تشویش کا اظہار کیا۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نام پر اتفاق نہ ہوا، حکومت نے اتوار کی شب کہا کہ اب اسپتال منتقلی ممکن نہیں۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے پمز کے ڈاکٹروں سے ملاقات کی، پارٹی قیادت نے حلف اٹھایا کہ ڈاکٹرز سے ملاقات کی تفصیلات پبلک نہیں کی جائیں گی۔