• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان تحریک انصاف بس ایک پریس کانفرنس کی مارتھی، جبکہ اپنوں کی مار زندہ درگور رکھتی ہے۔ کل فیملی پریس کانفرنس دوررس نتائج کی حامل رہنی ہے۔ PTI کیلئے تاریک ترین دن، یقینا ًمقتدرہ کی چاندنی ہو گئی ہے۔پریس کانفرنس نے عمران خان کی بیماری پر اپنی تشویش اُجاگر کرنا تھی، صد افسوس ! سیاسی بیماری الجھنیں بڑھا گئی، بڑے بڑے انصافی لیڈر پریس کانفرنس کی بھینٹ چڑھ گئے۔

علیمہ صاحبہ نے پارٹی قیادت پرعدم اعتماد کیا اور للکارا کہ ’’آخر کو تمہاری اوقات کیا ہے؟، ووٹر سپورٹر تو عمران خان کیساتھ ہیں‘‘، بھلا اس پر اختلاف تھا کب؟، پارٹی قیادت ہمیشہ سے اس پر یکسو اور متفق تھی۔ چند ماہ پہلے میرے دو کالم ’’جانشین عمران خان (05-09-2025)‘‘ اور ’’وزیراعظم علیمہ خان ( 12-09-2025)‘‘ میں یہی کچھ لکھا تھا کہ ووٹر، سپورٹر عمران خان کی غیرموجودگی میں علیمہ خان کی قیادت میں متفق اور متحد ہوچکے ہیں۔ پارٹی قیادت کا بس بھرم ہے، وہ بھی آج پاش پاش ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پہلے ہی پارٹی قیادت کو اُکسا رکھا تھا جو علیمہ خان کو پروموٹ کر رہا تھا جبکہ ووٹر سپورٹر سوشل میڈیا کی دھن پر سر دھنتے ہیں۔ پریس کانفرنس نے بیچ چوراہے قیادت کا ایسا بھانڈا پھوڑا کہ پوری پارٹی اس کارِخیر میں کام آ گئی۔ دو رائے نہیں کہ عمران خان جیسے قیدی جیل میں ہوں تو ریاست کا دردِ سر ہیں اور ان کی دیکھ بھال، رہن سہن، علاج معالجہ، خصوصاً ان کی سیکورٹی پر ریاست کا دو چار کروڑ مہینے کا خرچ رہتا ہے۔ کوئی بھی خلاف توقع واقعہ، ریاست کی نیندیں حرام رکھتا ہے۔ کرنل رفیع الدین کی کتاب ’’بھٹو کے آخری 323دن‘‘ پڑھ لیں کہ بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا کے باوجود ان کے معاملات، کمفرٹ، سیکورٹی، مارشل لا حکام کے اعصاب پر سوار تھے، حفاظت کیلئے جیل کے اندر فوج کی ایک پوری یونٹ تعینات تھی ۔ عمران خان کے معاملے میں بھی یہی SOPs ہونگے۔ چنانچہ عمران خان کی بیماری پر ریاستِ پاکستان کے چھکے چھوٹنا ، یقینی رہنا تھا۔

تحریک انصاف کو کریڈٹ کہ عمران خان سے پہلے جتنے وزرائے اعظم جیلوں میں رہے، ان کے لواحقین، وکلا، پارٹی رہنما، کسی نے بھی بعد از ملاقات پریس کانفرنس کا اڈا نہیں لگایا تھا اور نہ ہی کسی نے اداروں کے سربراہوں کو نازیبا الفاظ سے کھلے عام یوں للکارا۔ اٹک جیل سے اڈیالہ جیل تک، پونے دو سال عمران خان سے ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہا۔ فیملی، وکلا، پارٹی لیڈرز، دور نزدیک کےتمام رشتہ دار ، مجال ہے کوئی ملاقات کا متمنی ہو اور محروم رہا ہو۔ آخر کو فیملی پر کیا اُفتاد آن پڑی کہ ایسا طریقہ اپنایا کہ ریاست کو پونے دو سال بعد ملاقاتیں بند کرنا پڑیں، پچھلے کئی مہینوں سے عمران خان قید تنہائی میں ہیں ۔ پریس کانفرنس اڈا تو پہلے دن ہی سے لگایا تھا مگر بیانات کی سختی میں اتنی ناشائستگی نہیں تھی۔ اشاروں کنائیوں میں ادارے پر جب اٹیک کیا بھی گیا تو ملاقاتیں بند نہ ہوئیں، اگرچہ محدود ہوتی گئیں ۔ پچھلے 7\8 مہینے میں جو بیانات دینے کی کھلی چھوٹ تھی لگتا تھا ریاست کسی مقصد کیلئے فیملی کو ہانک رہی ہے۔ بالآخر فیملی کی ملاقاتیں بند ہوئیں تو وکلا اور پارٹی نے بھی ملاقات کی سہولت لینے سے انکار کر دیا ۔ انصافی سوشل میڈیا جسکے حقوق ملکیت عمران خان کے پاس ، عرصہ سے اداروں کو تضحیک، دشنام طرازی کا نشانہ بنا رہے تھے مگر ملاقاتیں پھر بھی جاری رہیں۔

بدقسمتی سے چند ہفتے پہلے جب عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ ہوا تو جیل انتظامیہ کی نااہلی اور غفلت واضح تھی مگرجیسے ہی خبر مقتدرہ تک پہنچی تو گھنٹیاں بجنا لازم تھا ۔ فی الفور انکو پمز ( PIMS) ہسپتال لے جایا گیا جہاں پروسیجر کے بعد بحفاظت جیل دوبارہ منتقل کر دیا گیا ۔ ایک پہلو سے صَرف نظر نہیں ہو سکتا کہ عمران خان کے حوالے سے سیکورٹی خدشات کا انبوہ یقینی ہے۔ دوسری طرف ہسپتالوں کے عملے کی ہائی سیکورٹی کلیئرنس ہوتی نہیں، چنانچہ بے شمار خطرات منسلک رہتے ہیں ۔ حتی الامکان خفیہ رکھنا تھا، رات ہی کا انتخاب کرنا تھا ۔ فیملی اگر ملاقاتوں کے بعد اداروں کے خلاف سخت بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس سے احتراز کرتی تو اس موقع پر فیملی نے قدم بہ قدم ساتھ ہونا تھا۔ دودھ کی جلی ریاست ، کیسے مان لیتی کہ فیملی ہسپتال سے پیغامات کی رسد بحال نہ رکھتی ۔ فیملی بجائے علاج میں سہولت کار بنتی ، زیادہ دلچسپی ایسی شرائط میں جس میں الشفا ہسپتال کا برانڈ عالمی سطح پر مشہور ہو گیا مع فیملی ممبر اور شوکت خانم کے ڈاکٹر کی موجودگی پر بھی اصرار تھا ۔

جید صحافی انصار عباسی کی تازہ بہ تازہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ ’’ 24فروری کو عمران خان کو الشفا ہسپتال منتقل کرنے کا منصوبہ تھا ، جہاں عمران خان کو 8\10 دن رکھنا طے تھا، سیکورٹی بندوبست ہو گئے تھے‘‘۔ اخفا میں رکھنا ضروری تھا کہ سکیورٹی کے پیش نظر خطرات منسلک تھے اور ویسے بھی پرائیوٹ ہسپتال کی سکیورٹی کلیئرنس کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس پر مستزاد! اسپتال کو ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کی دسترس سے بھی محفوظ رکھنا، جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ یہ ریاست کا بہت بڑا GESTURE ہی تھا کہ وہ سارے مطالبے مان چکی تھی سوائے فیملی ممبر اور شوکت خانم ڈاکٹر کی موجودگی والی شرط کے ۔ عمران خان کی بیماری پر ایسی شرائط کی منظوری اسلئے ممکن نہیں تھی کہ ادارہ اور فیملی کے درمیان اعتماد کا جو فقدان تھا،ان حالات میں ایسا مطالبہ غیرسنجیدہ حرکت تھی۔

علیمہ خان کی پریس کانفرنس نے ادارے کو کیا دباؤ میں لانا تھا اور کیا مطالبات منوانے تھے ، پریس کانفرنس پارٹی کا مکو ٹھپنے کے کام آئی ۔ایسا دھماکہ کیا کہ آنیوالے دنوں میں بے شمار آفٹر شاکس رہنے ہیں۔ جیل کے اندر عمران خان کی ناقص حکمت عملی نے پارٹی کو ایسے سلیقے سے استوار کرنے کی کوشش کی کہ پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ سے معاملہ فہمی کو پروان چڑھانا تھا جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا کو گالم گلوچ ، دشنام طرازی اور TROLLING کا بیانیہ دیا کہ ادارےپر دباؤ ڈالے اور بہتر ڈیل مل جائے ۔ یاد رہے کہ جب گوہر خان کو چیئرمین اور بعدازاں علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا تو تب اسی صفحہ پر درجنوں بار لکھا کہ عمران خان نے بنفس نفیس پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کے سپرد کیا ہے ۔ ناقص العقل کو بھی معلوم کہ ایسی حکمت عملی نے عمران خان کو کہیں نہیں پہنچانا تھا ، بلکہ یوں کہیں کہ کہیں کا نہیں چھوڑنا تھا ۔

پریس کانفرنس بس قیادت کو بے وقعت کرنے کے کام آئی۔ نام لئے بغیر، علامہ راجہ ناصر عباس کو لتاڑا، محمود اچکزئی زیرک سیاستدان، کئی ہفتوں پہلے کنارہ کشی اختیار کئے ہیں ۔ 30سال کی محنت شاقہ سے بنائی پارٹی لمحوں میں زمیں بوس ہو چکی ہے۔ اب اگر عمران خان چند سال اور باہر نہیں آتے اور یقیناً نہیں آئیں گے تو پارٹی پہلے ہی بوجوہ پریس کانفرنس اپنا وجود کھو چکی ہے۔ بدلے میں پریس کانفرنس کرنیوالوں کا فائدہ اتنا کہ میڈیا کی ٹاپ اسٹوری بنے کچھ دن چھائے رہنا ہے۔ پارٹی بھی متزلزل جبکہ اپنا بھی کوئی فائدہ نہ ہو پائے گا۔ باقی رہا عمران خان کا معاملہ تو مقتدرہ جس عمران خان کو زیر نہ کر سکی، احمقانہ حرکت نے عمران خان سیاست کا مکو ٹھپ دیا۔ عمران خان کا کرشماتی امیج موجود رہنا ہے مگر سیاست ایک پریس کانفرنس کی مار ثابت ہوئی۔

تازہ ترین