• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گجرات کے بابو بھائی خوشی کی تاب نہ لا کر مر گئے۔ مرتے بھی کیوں نہ آخر خوشی ہی اتنی بڑی ملی تھی۔ بائیس سال کی تگ و دو کے بعد عدالت نے انہیں آخر کار بے گناہ قرار دے دیا تھا۔ وہ پولیس میں کانسٹیبل تھے جب 1996ءمیں ان پر بیس روپے رشوت لینے کا الزام لگا۔ 2004ءمیں سیشن عدالت نے انہیں چار سال قید کی سزا سنا دی۔ ان کی نوکری بھی گئی اور اس سے جڑے لوازمات بھی۔ ان معاملات سے قطع نظر بابو بھائی کیلئے وہ کلنک کا ٹیکہ زیادہ اہم تھا جو ان کے ماتھے پر لگ گیا تھا۔ وہ اس جرم سے انکاری تھے اور اسے جھوٹا قرار دیتے تھے، پس اِس چار سالہ سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ ستم ظریفی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔

تاریخ پہ تاریخ ملتی چلی گئی۔ وکیل کی فیس اور عدالتوں کے دھکے تو ایک طرف، بابو بھائی کو انتظار کے کرب سے الگ گزرنا اور پھر ہر تاریخ پر مایوس لوٹنا پڑتا۔ وہ ایک حساس مزاج کے آدمی تھے اور عدالت سے مجرم قرار پانے پر رشتہ داروں، دوستوں، محلے داروں سے منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ اس سُبکی اور اس سے جڑی تنہائی نے ان کو ایک نفسیاتی مریض بھی بنا دیا تھا۔ تمام تر ناموافق حالات کے باوجود انہوں نے مگر دل میں امید کی لو کو بجھنے نہ دیا۔ دن گزرتے گئے، عمر بڑھتی رہی لیکن بابو بھائی کی شنوائی تھی کہ ہونے کو ہی نہیں آرہی تھی۔ ہر تاریخ پر وہ دوسرے شہر کا سفر اختیار کر کے عدالت عالیہ پہنچ جاتے، ابتدا میں اہم اور فوری کیسوں کی سماعت شروع ہو جاتی اور اس سے پہلے کہ ان کی اپیل کی باری آتی، جسٹس صاحبان یہ کہہ کر رخصت ہو جاتے کہ عدالت کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ ان کی بلا سے ان کی اس بے اعتنائی اور بے رخی سے بابو بھائی اور ان جیسوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی۔ بابو بھائی سوچا کرتے تھے جرم اور نا انصافی کا تو کوئی وقت مقرر نہیں تو پھر عدالتوں میں انصاف کا وقت کیوں مقرر ہے۔ پھر ریڈر سے تاریخ ملنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ جو لوگ ریڈر کے کانوں میں کچھ کھسر پھسر کرتے یا اس کی طرف بند مُٹھی بڑھا دیتے انہیں قریب کی تاریخ مل جاتی، بابو بھائی جیسے اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے۔ بابو بھائی بھی مُٹھی بڑھا کر قریب کی تاریخ لے سکتے تھے لیکن ان کی تو تگ و دو ہی رشوت کے جھوٹے الزام کے خلاف تھی، وہ کسی نئے جھنجھٹ کو کیسے پال لیتے۔ ہاں یہ ضرور سوچا کرتے تھے کہ جس نظام میں تاریخ ملنے جیسا بنیادی کام بھی رشوت دے کر ہوتا ہے وہ انہیں کیا انصاف فراہم کرے گا۔؟

دن ہفتوں، ہفتے مہینوں، اور مہینے برسوں میں بدلتے چلے گئے۔ بابو بھائی ایک پیشی اور جج صاحب کی تھوڑی سی توجہ کو ترستے رہے۔ خدا خدا کر کے آخر وہ دن بھی آ ہی گیا۔ اس روز کچھ کیس جلدی نبٹ گئے تو ان کے کیس کی باری آ گئی۔ بابو بھائی کے وکیل کی تمہید باندھتے باندھتے جج صاحب نے ان کی فائل میں لگے کاغذات پر نظر ڈال لی۔ فائل ایک طرف اچھالتے ہوئے کہنے لگے، اس کیس میں کچھ نہیں، اپیل منظور کی جاتی ہے، اگلے کیس کی آواز لگائیں۔ بابو بھائی تو دم بخود ہی رہ گئے۔ انہیں اپنی آنکھوں، اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ کہاں 1996 میں لگنے والا الزام، کہاں 2026ءمیں بریت کا اعلان۔ بیس روپے کا معاملہ تھا اور10950 دن انصاف کے حصول میں لگ گئے۔ دُہائی ہے دُہائی ہے، ہر ایک روپے پر اوسطاً 548 دن لگا دیے اس عدالتی نظام نے۔ خوشی کے مارے بابو بھائی کی تو دل کی دھڑکنیں ہی بے ترتیب ہونے لگ گئیں۔ جذبات سے مغلوب آواز میں وکیل سے کہنے لگے، میرے ضمیر سے بوجھ اتر گیا۔ اس رات بابو بھائی ایسا سوئے کہ اگلے روز بیدار بھی نہ ہو سکے۔ وہ بے چارے اس طویل، صبر آزما اور تکلیف دہ سفر سے اس قدر تھک گئے تھے کہ منزل پانے کے بعد ایک دن بھی زندہ نہ رہ سکے۔

دم سادھے جو قارئین اس مضمون کو پڑھ رہے ہوں گے وہ یہ جان کر شاید اطمینان کا سانس لیں گے کہ یہ واقعہ پاکستان کا نہیں ہندوستان کی ریاست گجرات کا ہے۔ فکر کی بات مگر یہ ہے کہ اپنے حالات کون سا بہتر ہیں۔ چھوٹی بڑی عدالتوں میں لاکھوں افراد شنوائی اور انصاف کے منتظر ہیں۔ تفتیشی ادارے، استغاثہ کے محکمے اور عدالتیں، سب کے سب ہی اس خرابی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اور پھر سب سے بڑھ کر مقتدر حلقے کہ جنہوں نے صحیح معنوں میں نظامِ انصاف کی اصلاح کو کبھی اپنی ترجیح جانا ہی نہیں، نہ ہی اس حوالے سے کبھی کسی جامع کاوش کا آغاز کیا ہے۔ اور بابو بھائی ہیں کہ ہر تاریخ پر اپنے بوسیدہ بستے اٹھائے، امید لیے عدالتوں میں جا پہنچتے ہیں۔ واپسی پر اپنے گھر والوں اور بچوں سے نظریں چراتے پھرتے ہیں جن کے سامنے وہ آخر کار سرخرو ہونا چاہتے ہیں کہ ان کا باپ ایسا نہیں تھا۔ یہ عدالتی فیصلہ اپنی اولادوں کو سنانے کی خواہش کتنے ہی دلوں میں سلگتی سلگتی معدوم ہو جاتی ہے۔ اپنی کھوئی ہوئی عزت کو عدالتی راہداریوں میں تلاش کرتے ان بابو بھائیوں کے بالوں میں چاندی عودکر آتی ہے، چہرے پر جھریاں ابھر آتی ہیں لیکن یہ انتظار ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ گجرات کے بابو بھائی تو پھر خوش قسمت تھے کہ مرنے سے کچھ گھنٹے پہلے بے گناہ قرار پا گئے، اپنے ان قبرستانوں کا کیا کریں جو اس سے کچھ کم خوش قسمت بابو بھائیوں سے بھرے پڑے ہیں!

تازہ ترین