• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو مسلمان ملکوں میں، دو ہمسایوں میں، دو کلمہ طیبہ پڑھنے والوں میں رمضان کے دنوں میں خون ریز جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ دل لرز رہا ہے۔ دماغ سن ہو رہا ہے کہ ایسی نوبت کیوں آئی؟۔ کیا یہ جانیں بچ نہیں سکتی تھیں۔ کیا قیادتیں ناکام ہو گئی ہیں۔ کیا غیر مسلم غیر ملکی ایجنڈے مسلمان ملکوں کو لڑوانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اتنی سنگین صورتحال پر ہماری قومی اسمبلی اور سینٹ کا اجلاس کیوں نہیں ہو رہا ہے۔ کیا اب پارلیمنٹ سپریم نہیں رہی۔ رمضان المبارک میں تو پہلے سے جاری جنگیں وقفہ کر لیتی تھیں۔ غیر مسلم بھی فائر بندی کرنے پر تیار ہو جاتے تھے۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ بیٹھنے کا دن۔ اب تو ماشاء اللّٰہ افطار پر روزانہ سب ہی اکٹھے ہو رہے ہیں۔ مسجدوں میں حاضری زیادہ ہو چکی ہے۔ رسول عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عشاق سربسجود ہو کر رحمتیں، برکتیں، مغفرتیں سمیٹ رہے ہیں۔ ہماری اولادیں سوشل میڈیا پر بھی اس جنگ کے آثار دیکھ رہی ہیں۔ موبائل فونوں کی اسکرینوں پر بھی خون مسلم بہہ رہا ہے۔ اندازہ تو کئی مہینوں سے تھا کہ یہ لڑائی دو بدو ہونیوالی ہے۔ دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد ہمیں یہ باور کروایا جاتا تھا کہ دہشت گرد افغانستان کی سرزمین سے آرہے ہیں اور پاکستان کا ازلی دشمن بھارت افغانستان کو پاکستان کے سامنے کھڑا کرنیوالا ہے۔ اپنی ہزیمت کا بدلہ وہ مغربی سرحد سے بالواسطہ لینا چاہتا ہے۔ بھارت نے امریکہ سے بھی اپنے معاملات درست کر لئے ہیں۔ یورپی یونین سے بھی بڑے معاہدے کر لئے ہیں۔ مشرقی سرحد پر بھارت کے متعصبانہ رویے جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کا اجلاس ہی نہیں ہونے پاتا۔ باہمی ترقی کے منصوبوں پر تو عمل کہاں ہوگا۔ دنیا میں سب سے گنجان آبادی والے اس علاقے میں دنیا کا پانچواں حصہ انسان یہاں بستے ہیں اور وہ ہر شعبے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ ادھر وسطی ایشیائی ریاستوں میں انسانی ترقی افغانستان میں بدامنی کے باعث رکی ہوئی ہے۔ امریکہ نے یہاں دو دہائیاں گزاریں ۔کتنے ملکوں کے فوجی یہاں متعین کئے گئے۔ اربوں ڈالر خرچ کر دیے لیکن وہ پھر اس ملک کو انہی طالبان کے حوالے کر کے فرار ہو گیا ۔افغانستان میں حالات مستحکم ہوتے تو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا خوشحالی کے مراکز بن جاتے۔

رمضان کا دوسرا عشرہ شروع ہو گیا ہے۔ برکتوں کا نزول ہونے والا ہے ۔پاکستان افغانستان میں جنگ رکوانے میں اب تک نہ تو امریکہ نے دلچسپی لی ہے۔ نہ سعودی عرب نے اور نہ ہی قطر،متحدہ عرب امارات سرگرم ہیں۔ کروڑوں انسانوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ عین انہی دنوں میں بھارت کے خونی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے خونی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملنے تل ابیب پہنچ گئے ہیں۔ عرب دنیا خاموش ہے۔ امریکی متعصب گورے صدر نے ہم رنگِ زمین دام بچھا کر مسلمان ملکوں کو بورڈ آف پیس میں جمع کر لیا ہے۔70 ہزار فلسطینیوں کا خون پکار رہا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ کشمیریوں کی روحیں تڑپ رہی ہیں لیکن مسلمان ملکوں کے بادشاہ، امیر، حاکم صدر ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔دنیا کا بڑا حصہ غیر محفوظ ہو رہا ہے۔ مذاکرات کی میز پر بات چیت کے بجائے سرحدوں پر اسلحے کی گھن گرج میں بات ہو رہی ہے ۔سوشل میڈیا پر بھی لاشیں گنی نہیں جا رہی ہیں۔ چوکیاں تباہ ہو رہی ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر کا نائب حضرت انسان جدید ترین ہلاکت خیز ہتھیاروں کا ہدف بن رہا ہے۔ افغانستان کاپاکستان سے معاندانہ رویہ ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے۔ چاہے وہاں بادشاہی ہو خواتین اسکرٹ پہنتی رہی ہوں یا شٹل برقعوں میں چھپی ہوں ۔چاہے وہاں سردار داؤد کی حکمرانی ہو یا طالبان کی۔ امیرالمومنین فیصلے کرتے ہوں یا امریکہ کی کٹھ پتلیاں حامد کرزئی اور اشرف غنی۔ پاکستان کو تسلیم کرنے میں بھی افغانستان نے بہت دیر لگائی تھی۔ پاکستانیوں کی میزبانی اور مہربانی کو تو آج تک تسلیم نہیں کیا۔ بھارت نے بھی پاکستان کو دل سے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ بھارت پاکستان کی جنگ ہوئی تو ایران کے شہنشاہ نے ہمارے جنگی طیاروں کو اپنے ایئرپورٹوں پر پناہ دی تھی۔

مجھے کابل جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ ایک طویل غیر ملکی دورے کے بعد وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو اسلام آباد اترنے سے پہلے اچانک سردار داؤد سے ملنے کابل پہنچ گئے تھے ۔کوئی معاہدہ بھی ہونے والا تھا ۔پھر ہمیں سینئر صحافی عبدالحمید چھاپرا روسیوں کی حکمرانی کے دور میں کابل لے گئے تھے ۔ہم کراچی اسلام آباد یا پشاور سے کابل جانے کے بجائے دہلی سے کابل گئے تھے۔ ان دنوں بلند قامت صدر نجیب اللہ کی حکومت تھی۔ جو پاکستانی صحافیوں سے بڑے تپاک سے ملے تھے ۔پھر ضیا شاہد صاحب ہمیں صدر حامد کرزئی سے ملوانے کابل لے گئے تھے۔ ہم نے کابل کو ہمیشہ وسوسوں اور غربت میں محصور دیکھا ۔افغانستان سے ہماری اگر دوستی رہی تو وہ بھی امریکہ کے کہنے پر اور اگر دشمنی ہوئی تو وہ بھی امریکہ کے ایما پر۔ نائن الیون کے بعد ہم امریکہ کے نان نیٹو اتحادی بنے جو میرے خیال میں ہم اب تک ہیں۔

افغانستان روس کے زیر اثر رہا ہو یا امریکہ کے اور اب بھارت کے ۔پاکستان میں اس کی طرف سے ہمیشہ منشیات، کلاشنکوف، دہشت گردی کے تحفے ہی ملے ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان میں کبھی امن اور خوشحالی کی ہوائیں نہیں چلیں۔ یہ گریٹ گیم (بازی عظیم) 1930 سے جاری ہے۔ پہلے برطانیہ روس کے درمیان کشیدگی ہوتی تھی اب برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے ۔روس دوبارہ اپنے دست و بازو کس رہا ہے۔ چین ایک پٹی ایک سڑک کے تحت آگے بڑھ رہا ہے اور ہم ہمسائے ایک کلمہ ایک خدا ایک رسول کے باوجود لڑ رہے ہیں۔

ہم پارلیمانی نظام کے داعی ہیں قومی اسمبلی، سینٹ ہے، صوبائی اسمبلیاں ہیں ۔فارم 45 یا 47 کی بات نہیں ہے اب پاکستان کی سالمیت پاکستانیوں کی جان مال کا معاملہ ہے ۔اس لیے سوشل میڈیا پر لفاظی اور غیر مصدقہ خبروں میں الجھنے کی بجائے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا جائے۔ خارجہ پالیسی پر کھلی بحث کی جائے ۔سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان ۔دونوں کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ در اندازی بھی ہو رہی ہے۔ دونوں طرف منقسم خاندان بھی ہیں۔ ان صوبوں کے نمائندوں کو بولنے کا زیادہ موقع دیا جائے۔ پھر نئے سرے سے امریکہ پالیسی افغان پالیسی اور انڈیا پالیسی مرتب کی جائے ۔قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ افغانستان کے جارحانہ عزائم میں بھارت کا کتنا دخل ہے اور سفارتی سطح پر ہم اس سلسلے میں کیا کر رہے ہیں۔ امریکہ کا کیا کردار ہے ۔روس چین کیا موقف رکھتے ہیں۔ سعودی عرب سے ہمارا دفاعی معاہدہ کیا اس نازک گھڑی میں کوئی حوالہ رکھتا ہے یا نہیں؟

(اس ہفتے پاکستان اپنے ایک عظیم فرزند ماہر تعلیم بلند قامت بلند فکر مظہر الحق صدیقی سے محروم ہوگیا۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین)

تازہ ترین