عوامی خریداری (Public Procurement) بلاشبہ حساس معاملہ ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے اشیاء و خدمات کی خریداری و حصول اور ترقیاتی پراجیکٹس کی تکمیل اہم ذمہ داریاں ہیں۔ اس مقصد کیلئے قانونی اور شفاف مسابقتی عمل ہی پسندیدہ راستہ ہے۔ جس کے ذریعے نہ صرف عوامی مفادات کی نگرانی ہوتی ہے، بلکہ بعدازاں منصوبہ جات کی پائیداری کی ضمانت بھی وابستہ ہے۔ اگرچہ غیر مسابقتی اور براہِ راست خریداریوں کے حامی ’’جی ٹی جی‘‘ حکمت عملی کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں کہ یوں بقول ان کے ’’اخباری اشتہارات وغیرہ پر اُٹھنے والے اخراجات کی بچت ہو جاتی ہے۔ نیز پروجیکٹ تیزی سے مکمل ہو جاتے ہیں‘‘۔ اس مکتب فکر اور گروہ کے تصورات زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ایک بڑے صوبے میں ای ٹینڈرنگ کے مسابقتی عمل کے ذریعے تعمیرات عامہ کے کاموں میں تقریباً چالیس ارب روپے کی مجموعی بچت رپورٹ ہوئی ہے۔ یہ کثیر بچت محض چند کروڑ روپے کے اخباری اشتہارات اور کھلے مقابلے سے ہی ممکن ہو سکی۔ کم لاگت سے ان ترقیاتی کاموں کی بعدازاں کامیاب تکمیل یہ دلالت بھی کرتی ہے کہ ہمارے سرکاری ادارے کس طرح مجوزہ منصوبوں کی غیرحقیقی over invoicingکے عادی ہو چکے ہیں۔ چنانچہ عوامی ترقیاتی منصوبہ جات کی مقداروں اور درست لاگت کے تعین کے لئے بھی ہمیں غیرجانبدار پیشہ ورانہ خدمات کی اشد ضرورت ہے۔
بلاشبہ بعض شورش زدہ، دُشوار گزار علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نیز ملکی دفاعی نوعیت کے منصوبوں کیلئے آزادانہ ٹینڈرنگ سے استثنا ایک ضرورت ہے۔ ماضی میں چند ایک سرکاری تعمیراتی اداروں نے ایسے میگاپراجیکٹس کی تعمیر و تکمیل کیلئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا ہے، لیکن اس استثناء کو عمومی روایت نہیں بنایا جا سکتا ۔ بالخصوص پلاننگ، نگرانی اور تصدیقی (TPV) مراحل کے لئے مشاورتی فرموں کا منصفانہ انتخاب ایک آزاد ٹیکنیکل مسابقت کا تقاضا کرتا ہے۔ پبلک ورکس کے منصوبہ ساز، منظوری دینے والے، تعمیرات کرنیوالے، نگرانی کرنے والے اور آخری تصدیق (TPV) کرنے والے سبھی اداروں کا تعلق سرکار سے ہو تو ذاتی مروتوں والا سسٹم پیدا ہو جاتا ہے جو تساہل کو جنم دیتاہے۔ احتساب عنقا ہو جاتا ہے اور پراجیکٹ پر کنٹرول کمزور ہو جاتا ہے۔ عوامی منصوبہ جات کے لئے سرکاری اداروں سے خدمات کا براہِ راست حصول (G2G) اور فروغ، یک جماعتی نظامِ حکومت کی طرح چیک اینڈ بیلنس کو ختم کر دیتا ہے۔ دریں صورت تمام سرکاری فریقین اپنے مشاہرے اور سہولیات تو حاصل کر لیتے ہیں، لیکن تمام نقصانات کو بالعموم عوامی پراجیکٹ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اور یوں پراجیکٹ کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ آزادانہ مقابلے کے بعد منتخب شدہ فریقین (کنٹریکٹرز، مشیران) توازن قائم رکھتے ہیں جس کا فائدہ بہرحال پراجیکٹ اور عوامی خزانے کو ہوتا ہے۔ مسابقتی عمل کے بغیر منتخب شدہ سرکاری، غیرسرکاری ادارے بالعموم منصوبہ کی لاگت میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ یوں گورنمنٹ اپنے منصوبہ جات کی بہترین متبادل قیمت حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ یہ صورتِ حال بسا اوقات افراطِ زر اور اجارہ دار قیمتوں کا باعث بنتی ہے۔ جو مجموعی ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ ہے۔
افسوس ناک بات ہے کہ ہمارے ہاں منصوبہ جات کی ابتدائی پلاننگ سے ہی غیرمسابقتی طرزِعمل کارفرما ہو جاتا ہے۔ شاید اضافی اخراجات سے بچنے کیلئے ہمارے ہاں بالعموم ابتدائی حجم اور تخمینہ جات کے لئے ماتحت سرکاری اہلکاروں سے کام چلایا جاتا ہے۔ بعدازاں تعمیرات کے دوران پراجیکٹ کا اسکوپ بدلنا پڑتا ہے۔ اس نظرثانی کی وجہ سے پراجیکٹ کی مالیت میں بار بار تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔ ابتدائی پلاننگ کے دوران پروفیشنل تساہل کی وجہ سے مستقبل کے خدشات، غلطیوں بارے مناسب حل پیش نہیں کئے جاتے۔ جو بعدازاں پراجیکٹ میں تاخیر کا باعث ہیں۔ سخت گیر اور مسابقتی عمل کے بعد آزادانہ بیرونی مشاورتی ٹیم کے انتخاب میں بے شمار فائدے حاصل ہوتے ہیں، بلکہ ابتدائی منصوبہ بندی کی غلطیوں پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ ایسی مشاورتی ٹیم میسر آ سکتی ہے جن کا کام محض پراجیکٹ پر توجہ مرکوز کرنا ہوتا ہے۔ وہ سرکار کی اندرونی سیاست کا اثر نہیں لیتے اور نہ ہی سیاسی ادوار کی تبدیلی سے انکے رویوں میں تبدیلی آتی ہے۔ آزادانہ منتخب مشیران کا نقطہ نظر قطعی غیرجانبدار ہوتا ہے، جو پیش آمدہ خطرات سے بھی آگاہ رکھتے ہیں، جبکہ سرکاری مشیران میں یہ خوبیاں نہیں ہوتیں۔ وہ کسی بھی فریق سے قربت اور گروپ سوچ کی وجہ سے خدشات سے صرفِ نظر بھی کر سکتا ہے۔ ایک آزاد مشیر ایسا پیشہ ورانہ ماہر ہوتا ہے جو کنٹریکٹر کے کام کو مالک کے بہترین مفاد کے مطابق دیکھتا ہے۔ آزادانہ مشیر بالعموم ملٹی نیشنل تجربہ کے حامل ہوتے ہیں جو ماضی میں غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک اور JV کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ یوں سرکاری لوگوں کی نسبت جدید ٹیکنالوجی اور منصوبہ بندی کے ذریعے پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتے ہیں۔
پراجیکٹ کے تصدیقی مراحل کے لئے (TPV) آزادانہ رائے رکھنے والے پرائیویٹ مشیر کی تقرری، پلاننگ اور نگرانی کرنے والے مشیران سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ایک ’’سرکاری ٹی پی وی‘‘ نگران کی نسبت وہ تکنیکی عملدرآمد اور مالی ڈسپلن کیلئے زیادہ مؤثر ثابت ہوا ہے۔ چنانچہ تفصیلی اسکروٹنی کے ذریعے وہ ایک نیوٹرل فریق کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس کا رجحان سرکار کی طرف ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ٹھیکیدار کے حق میں ڈنڈی مارتا ہے۔ بالعموم سرکاری (TPV) مشیر کا کام تمام اسٹیک ہولڈرز، ریگولیٹرز اور متعلقہ سرکاری اداروں کی ذمہ داریوں کو چیک کرنا ایسے ہی ہے جیسے طالب علم اپنے ہی ہوم ورک کو خود چیک کرے۔ سرکاری ادارے پر کام کے بوجھ کی وجہ سے شاید بھرپور اسٹاف بھی موجود نہیں ہوتا۔ جو تفصیلی گہرائی اور گیرائی سے کام چیک کر سکے۔ پھر بادل نخواستہ کام کو sublet کرنا پڑتا ہے۔ یہ پرائیویٹ جزوی مشیران بھی سرکاری ادارے کے پسندیدہ ہوں تو پھر ’’موجاں ای موجاں‘‘۔ عوامی ترقیاتی منصوبہ جات کیلئے شفاف مسابقتی عمل سے اغماض اور کم استعداد کے حامل اداروں کیلئے ’’جی ٹی جی‘‘ پالیسی کا بے دریغ استعمال ملکی معیشت کیلئے گراں بار ہے اور فارغ بیٹھے انجینئرز، مشاورتی اداروں اور کنٹریکٹرز کے استحصال کا باعث بھی۔ اُمید ہے ترقیاتی منصوبہ بندی کے نگران اور ریگولیٹری اداروں کے منتخب عہدیداران اصلاحِ احوال کیلئے متوازن اقدامات بارے غور کریں گے۔