ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے خطرناک اثرات پاکستان پر بھی نمودار ہوں گے، ایران انتقام لے گا، دنیا جس طرف جارہی ہے وہ نہایت خطرناک ہے، جنگ ہماری سرحد تک آچکی ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے ایران پر آج حملہ کردیا جس میں برطانیہ بھی شامل ہوگیا ہے۔ حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی ایئربیسسز پر حملہ کردیا جس سے وہ لرز اٹھیں۔
ایران کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایرانی حملوں میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سفرا اور تجزیہ کاروں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ پاکستان کی سرحد تک پہنچ چکی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر مسعود خان نے کہا کہ جنگ کے خطرناک اثرات پاکستان پر بھی نمودار ہوں گے، ایران نے کہا ہے کہ وہ انتقام لے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران اسرائیل جنگ پاکستان کے لئے بہت مشکل چیلنج ہے۔
سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ ہم ہمسایہ ملک ہیں، ہمیں کھل کر اس کی مذمت کرنی چاہیے۔ امریکا کا فریب کوئی نئی چیز نہیں، ایران اب کھل کر سامنے آئے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کرنا اور پھر حملہ کردینا اس سے امریکہ پر دنیا کا اعتماد کم ہوگا۔
ماہر قومی سلامتی امور سید محمد علی کا کہنا تھا کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تو وہ مزید تنہا ہو سکتا ہے، مذاکرات کا مقصد پُرامن حل نہیں تھا، دونوں فریقین کو کچھ مل گیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ عرب ممالک تک پھیلی تو ایران مزید تنہا ہوسکتا ہے۔
ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ نا یواین کا کوئی کردار باقی رہا نہ ہی بین الاقوامی قانون نظر آتا ہے، دنیا جس طرف جارہی ہے وہ نہایت خطرناک ہے۔
سابق سفیر اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس میزائل کی موجودگی کے دعوے درست ہیں یا نہیں یہ دو چار گھنٹے میں پتہ چل جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی لیڈرشپ کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ یہ جنگ پھیلے گی یا نہیں یہ ایک ایشو ہے، امریکہ کےلیے ایران کے خلاف ٹھوس جواز پیدا کرنا اور اپنی عوام کو مطمئن کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران بھرپور جواب دے تو امریکہ اور اسرائیل کیلئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ پاک بھارت جنگ میں چین کا اپنا کردار تھا لیکن ایران کے معاملے میں شاید ایسا نہ کرے۔
سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا کہ مضبوط مسلمان ممالک کو اب اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، جنگ ہمارے بارڈر تک آچکی ہے۔ ساری جنگ دھوکے کی بنیاد پر ہے۔