دہشت گردی کیخلاف جنگ صرف گولیوں، بارود سے نہیں لڑی جاتی، یہ ریاستی بصیرت اور قومی وحدت کی آزمائش بھی ہوتی ہے۔ پاکستان نے ایک دہائی پہلے بھی اس آگ کو اپنے سینے پر جھیلا، شہریوں اور فوجی جوانوں نے لاتعدادو لازوال قربانیاں دیں،فوجی آپریشنز بھی کئے گئے۔ قبائلی علاقوں میں ریاستی رٹ بحال ہوئی، دنیا کو دکھایاکہ اگر ریاست متحد ہو تو ناممکن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے مگر تاریخ یہ بھی سکھاتی ہے کہ اگر پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو ، ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو، قوم گروہوں میں تقسیم ہو جائے تو موقع ملتے ہی دہشت گردی پھر سر اٹھا لیتی ہے۔ دہائی قبل جب پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ لڑی تو قوم نے سمجھا کہ شائد یہ ناسور ہمیشہ کیلئےختم ہوگیا ہے۔ اس جنگ میں پاک فوج ، پولیس، ایف سی، قبائلی عوام، شہریوں نے بے مثال ایثار،قربانی اور یک جہتی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن یہ تمام تر قربانیاں گزشتہ عمرانی دور میں ضائع کر دی گئیں اور آج ہم دہشت گردی کیخلاف پہلے سے کہیں بڑی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ سوال پھر ہمارے سامنے ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہو؟ اسباب، وجوہات، چند غور طلب تجاویز سے قبل ہمیں یہ طے کرلینا چاہئے کہ کیا یہ مسئلہ مذاکرات سے حل ہوگا یا قوم کو میٹھی گولی دینے والے چند بیانات سے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب مذاکرات کی کوششیں دم توڑ دیں اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ہر حد پار کردی جائے۔ ایسے میں ریاست کے پاس سخت ترین اقدامات کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ امن کی خواہش کمزوری نہیںہوتی مگر اسکی حفاظت کیلئےبعض اوقات طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ریاستیں مرحلہ وار صبر بھی کرتی ہیں اور سخت فیصلے بھی۔ سوال یہ نہیں ہوتا کہ انتہائی قدم اٹھانے کا مرحلہ کیوں آیا؟ سوال یہ ہوتا ہے کہ ایسا کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے امن برقرار رکھنے کیلئے ایسے تمام راستے اختیار کرلئے گئے تھے جس سے فریقین اپنے اپنے اقدامات پر نادم نہ ہوں۔ پاکستان اور افغان طالبان آج اسی مرحلے سے گزر رہے ہیں جہاں دونوں ریاستوں کو اپنے اپنے اقدامات کا عالمی سطح پر جواب دینا ہوگا۔ پاک فضائیہ کی گزشتہ دنوں افغانستان کے تین صوبوں پکتیکا، خوست، ننگرہار میں کالعدم ٹی ٹی پی اور غیر ملکی خوارج کے سات ٹھکانوں پر شدید بمباری کا مطلب ہے کہ فریقین اور انکے درمیان صلح کی تمام تر کوششیں کرنیوالے ممالک ناکام ہوگئے اورمذاکرات کی آخری حد ختم ہوچکی ہے۔ اب ریاستی رٹ کو ہر قیمت پر قائم رکھنا پاکستان کی ترجیح ہے۔ اگرچہ افغان رجیم نے اس کارروائی پر کہا کہ کسی مناسب وقت پر جواب دیا جائیگا۔ یہاں ایک بار پھر خیبرپختونخوا، بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات،صوبائی حکومتوں کے کمزور کردار، سول فورسز کو مضبوط کرنے کے بجائے بانی پی ٹی آئی رہائی فورس بنانے کا اعلان، سہیل آفریدی کا اپنے صوبے میں امن و امان کے بجائے قیدی نمبر804 کی رہائی کو پہلی ترجیح قرار دینا، طالبان رجیم سے امن مذاکرات کی توقع، ایران کے بعد اگلے نشانے کے طور پر پاکستان کو افغان طالبان کے زیر انتظام چلنے والے بھارتی نیٹ ورکس فتنہ الخوارج کے ذریعے کمزور کرنا، افغانستان کی سرحد سے منسلک وسط ایشیائی ممالک میں افغان دہشت گردوں کی کارروائیاں دراصل خطے میں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ میں بھارت کی کھلی سہولت کاری کی ایک گھناؤنی سازش کا ایسا ابتدائیہ ہے جسے پڑھے بغیر پاکستان کے اندرونی سیاسی عدم استحکام، سازشوں کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب سابق وزیراعظم عمران خان افغانستان سے اچانک امریکی انخلاپر آزادی مبارک ہو،آزادی مبارک ہو کے نعرے بلند کررہے تھے اور 40ہزار جنگجوؤں کی آباد کاری پر عمل کیا جارہا تھا تو تجزیہ نگاروں کی اکثریت انہیں یہ مشورہ دے رہی تھی کہ تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو۔ آپ طالبان کے مامے، چاچے مت بنیں، ان پر کسی صورت اعتبار کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں، یوتھیئے ایسے تجزیہ نگاروں کو ”لفافی صحافی“ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ طالبان کو امریکہ، اسرائیل، بھارت گٹھ جوڑ قرار دینے والے یہی لفافی آج سرخرو ہو رہے ہیں کہ طالبان رجیم پاکستان کے خلاف ایک جال ہے۔ جی ہاں! وقت خود ثابت کررہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل، بھارت ایک ایسی سازش کر رہے ہیں جس کے تانے بانے اب کھل رہے ہیں۔ پاکستان کی بری و فضائی افواج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دلیرانہ قیادت میں فتنہ الخوارج، الہندوستان کی جارحیت کا کابل سے قندھار، ننگر ہار سے پکتیکا تک منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔ بھاری تعداد میں ہلاکتوں کی تصدیق ہو رہی ہے۔ تادم تحریر طالبان رجیم کیخلاف آپریشن غضب للحق پوری طاقت کے ساتھ جاری ہے۔یہ جنگجو دراصل خطے میں کرائے کے قاتلوں کا ایک ایسا گروہ ہیں جو جائز و ناجائز غیرشرعی مفادات کی خاطر کسی بھی ہمسایہ ملک میں بدامنی پھیلانے کیلئے غیر ملکی آقاؤں کی ایما پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ نیٹو فورسز کا افغانستان سے اچانک بھاری اسلحہ، اربوں ڈالر چھوڑ کر بھاگنا اور طالبان رجیم کا امریکہ اسرائیل کی پراکسی بھارت کی جھولی میں جا بیٹھنا بلاوجہ نہیں تھا بلکہ عالمی سازش کا وہ حصہ ہے جسکا مقصد پاکستان، ایران،وسطی ایشیائی ممالک میں بدامنی پھیلا کر خطے میں مکمل امریکی کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ آج پاکستان کی مسلح افواج طالبان رجیم کو انکے گھر میں گھس کر سبق سکھا رہی ہیں۔ یہ جنگ پورے خطے کی سلامتی کی جنگ ہے جسے خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرزکو اپنے ملکوں کے دفاع کیلئے متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔