جنوبی بھارت کے شہر بنگلورو میں 5 سالہ معصوم بچی کی موت کے تقریباً تین ماہ بعد پولیس نے متوفی کی ماں اور اس کے ساتھ رہنے والے (لائیو ان) پارٹنر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ 25 مارچ کو پیش آیا تھا، جب 5 سالہ وینیلا مردہ حالت میں پائی گئی تھی۔ بچی کے والد کی جانب سے پولیس کے پاس درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق متوفی کی ماں پرینکا نے ابتدا میں کہانی گھڑی تھی کہ 24 مارچ کی رات بچی نے بریانی کھائی تھی، جس کے بعد وہ کار میں اے سی چلا کر سو گئی۔ اس دوران پرینکا اور اس کا دوست موہن قریبی کیفے چلے گئے۔
پرینکا کا دعویٰ تھا کہ واپسی پر وہ بچی کو کار سے نکال کر گھر کے اندر لے گئی اور بستر پر سلا دیا، لیکن اگلی صبح بچی نہیں اٹھی اور اسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
بچی کے والد کو بیوی کے بیان پر شک تھا، جس کے بعد انہوں نے بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ حاصل کی اور اسے انگلینڈ میں مقیم اپنی بہن کو بھیجا، جو ماہر اطفال ہے۔
رپورٹ کا معائنہ کرنے پر کافی مشکوک صورتحال سامنے آئی اور یہ اشارہ ملا کہ بچی کو قتل کر کے شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔
والد نے الزام لگایا کہ اسکی بیوی اور آشنا نے بچی کو اپنے راستے کا کانٹا سمجھ کر مار ڈالا۔ بچی کی موت کے بعد ملزم موہن کی جانب سے عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کرنے سے ان کا شک یقین میں بدل گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے والد اور پرینکا کی شادی 2007 میں ہوئی تھی اور ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ تاہم 2025 میں پرینکا نے اپنے کالج کے پرانے دوست موہن کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے اور شوہر سے زبردستی طلاق کے کاغذات پر دستخط کروا کر موہن کے ساتھ رہنے لگی۔
بڑی بیٹی والد کے ساتھ رہ رہی تھی جبکہ چھوٹی بیٹی وینیلا ماں کے پاس تھی۔ والد کا الزام ہے کہ دونوں ملزمان بچی کو اپنی نجی زندگی اور رشتے میں رکاوٹ سمجھ رہے تھے، اسی لیے اسے راستے سے ہٹا دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی گہرائی سے تفتیش جاری ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔