مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک پھیلتی ہوئی حالیہ کشیدگی ایک ایسے خوفناک منظرنامے کی نشاندہی کر رہی ہے جس میں مسلمان ممالک خود آپس میں الجھتے جا رہے ہیں جبکہ اسلام دشمن طاقتیں اپنے اسٹریٹجک مفادات سمیٹ رہی ہیں۔ امریکا اسرائیل اور بھارت نے نہ صرف خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی بساط بچھا دی ہے۔ ایران پر حملے کے بعد جو ردعمل سامنے آیا، اس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے خطرے سے دوچار کر دیا۔ امریکا و اسرائیل کے اس غیراخلاقی اور غیرقانونی حملہ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو بھی شہید کر دیا گیا تاکہ ایران میں رجیم چینج کا رستہ ہموار کیا جا سکے اور امریکا و اسرائیل اپنی مرضی کے حکمران ایران پر مسلط کر سکیں۔ عراق کی طرح جھوٹ کی بنیاد پر یہ حملہ کیا گیا جس کے جواب میں ایران کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ تنازع اب کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور حتہ کہ سعودی عرب جیسے ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا ایک ایسے وسیع تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے جس کے اثرات پوری مسلم دنیا کو متاثر کریں گے۔ یعنی اگر آپ غور کریں تو امریکا و اسرائیل کا بظاہر ہدف تو ایران تھا مگر نتیجتاً پورا خطہ عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ امریکا و اسرائیل کا اصل مقصد ہی وسیع تر تصادم کو جنم دینا تھا تاکہ مسلمان ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائیں اور اُن کی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا جائے۔ ایران پر حملہ ایسے وقت کیا گیا جب وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں تھا، جس نے امریکا کی بدنیتی ثابت کر دی۔ امریکا اور اسرائیل کو بخوبی اندازہ تھا کہ ایران جوابی کارروائی میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائے گا اور ایسا ہی ہوا۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے سے ایک دو دن پہلے ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مسلمانوں کے قاتل مودی اور نیتن یاہو نے جپھیاں بھی ڈالی۔ یعنی ایران پر حملہ کے حوالے سے بھارت کا کردار بھی مشکوک ہے۔ جنوبی ایشیا کی صورتحال پہلے ہی کم تشویشناک نہیں۔ افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر پراکسی جنگوں کا میدان بن چکی ہے اور اس کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان ہے۔ بھارت اور اسرائیل افغان طالبان حکومت کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ سرحدی علاقوں میں حملوں اور جوابی کارروائیوں نے حالات کو جنگ جیسی کیفیت تک پہنچا دیا ہے۔ پاکستان کو اپنی سالمیت کے دفاع کے لیے افغانستان کے اندر دہشتگرد ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ افغان طالبان حکومت کو شاید اس امر کا ادراک نہیں کہ وہ ہندتوا اور صیہونی طاقتوں کے ہاتھ استعمال ہو کر اپنے بردار ہمسایہ ملک پاکستان (جس کے افغانستان اور افغان طالبان پر انگنت احسانات ہیں) میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اس سے فائدہ نہ طالبان کا ہو گا نہ افغانستان کا بلکہ اسلام دشمنوں کا جو خطے کو کمزور اور منتشر دیکھنا چاہتیے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف کھلی پراکسی وار کے لیے استعمال کر رہا ہے، جو نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اُس معاہدے کی روح کے بھی منافی ہے جو امریکا اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ معاہدہ کے نام سے طے پایا تھا۔ اس معاہدے میں افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دی گئی تھی، مگر موجودہ صورتحال اس کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حیرت انگیز طور پر امریکا دوحہ معائدے کا اہم حصہ ہوتے ہوے بھی افغان طالبان پر اس معاملے پر کوئی مؤثر دباؤ ڈالتا نظر نہیں آتا، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر پاکستان میں امن کے قیام کا خواہاں نہیں۔ گذشتہ سال جب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑی تو ٹرمپ کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہ تھے لیکن جیسے ہی بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں تاریخی مار پڑی تو امریکا فوراً جنگ رکوانے کے لیے سرگرم ہو گیا۔ امریکا اور ٹرمپ بظاہر جو مرضی کہیں، وہ پاکستان کے خیر خواہ نہ ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی ہمارے ساتھ موجودہ محبت سے ہمیں گمراہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ ہمارے خیر خواہ نہیں۔ بس ٹرمپ اور امریکا کے شر سے بچے رہنے پر ہمیں خوش رہنا چاہیے۔ میری ذاتی رائے میں ایران کو بھی جوابی کارروائی کرتے وقت زیادہ احتیاط اور خصوصاً سعودی عرب کے حوالے سے حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ ایسی کارروائیاں مسلم دنیا کے اندر مزید تقسیم کا باعث بن سکتی ہیں۔ حقیقت میں یہ صورتحال مسلم دنیا کے حکمرانوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے۔ اگر ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا
سکتی ہے جہاں بیرونی قوتیں کامیاب اور مسلمان ممالک باہم دست و گریباں رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی ممالک جذباتی ردعمل کے بجائے حکمت، اتحاد اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں، ورنہ یہ آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ مسلم دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل طاقت باہمی تصادم میں نہیں بلکہ اتحاد میں ہے۔ ورنہ دوسروں کے کھیل کا حصہ بنتے بنتے وہ خود اپنی بقا کی جنگ ہار سکتے ہیں۔