افسوس ایران میں بالآخر وہی المیہ وقوع پذیر ہوگیا ہے جس کا خدشہ یہ درویش مدت سے بیان کرتا چلا آ رہا تھا۔ امام خمینی کی گدی پر بیٹھے ایرانی ولایتِ فقیہ کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت ایران کی اکثرٹاپ قیادت امریکی ٹارگیٹڈ حملے میںجان بحق ہو گئی ہے جس کا اہل پاکستان کو بےحد دکھ اور افسوس ہے۔اب تک کے انسانی تجربے وتحقیق کے مطابق بلا شبہ جمہوریت سے بہتر کوئی سیاسی نظام اس دنیا میں نہیں ہے جمہوریت کا بڑا فیضان یہ ہے کہ تگڑی سے تگڑی حکمرانی کو بھی عوام الناس کے سامنے سرنگوں ہونا پڑتا ہے پرامن انتقالِ اقتدار انسانیت کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس تحسین کے ساتھ ہی جمہوریت کی ایک خامی بھی تسلیم کرنی پڑئیگی بعض اوقات آمرانہ ذہنیت کےمکار اور چرب زبان عوام کو شیشے میں اتار لیتے ہیں جو آگے چل کر ٹرمپ جیسے ڈکٹیٹر بنتے ہیں البتہ دوسری طرف یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ مخصوص مدت کے بعد جمہوریت ہی انہیں اتار بھی پھنکتی ہے۔ ٹرمپ نے ظلم و جبر کے خاتمے کا نام لیتے ہوئے ایران میں جو شدید کارروائی کی ہے اسے امریکی عوام کی بھی حمایت حاصل نہیں اور یہ ایرانی عوام کیلئے بھی اس نوع کے ثمرات نہیں لائے گی جسکے سپنے مہذب دنیا کو دکھائے جا رہے ہیں۔ مسٹر ٹرمہ آپ نےجو قدم اٹھایا ہے اس کی بدولت ایرانی رجیم یا ولایت فقیہ کو ایک طرح سے نئی زندگی مل گئی ہے، اس کے ہمدردوں یا حمایتیوں کا جوش و خروش کئی گناہ بڑھ گیا ہے۔ ان عقیدتمندوں کی خدمت میں درویش کی گزارش ہے کہ وہ اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں لینے اور تشدد و توڑ پھوڑ سے باز رہیں بالخصوص جس طرح امریکی سفارت خانوں یا قونصلیٹس پر حملے ہوئے ہیں ۔ گلگت بلتستان جیسے پرامن علاقوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر حملہ کہاں کی عقیدت ہے؟ حکومت پاکستان کا ایران کے حوالے سے موقف تو ویسے ہی خاصا فراخدلانہ،معتدلانہ و حقیقت پسندانہ ہے جس کی خود ایران نے کئی مواقع پر تحسین کی ہے۔ ہم نے نہ صرف ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے بلکہ اپنے دوست خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اومان اور جارڈن پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی بھی اسی طرح مذمت کی ہے۔سعودی عرب اور ان دیگر عرب ممالک کا یہ مؤقف قطعی واضح ہے کہ ہمارے ممالک میں امریکی اڈے موجود ہونے کے باوجود جب یہاں سے ایران پر کوئی حملہ نہیں ہوا ہے تو پھر ایران ہم پر حملے کیوں کر رہا ہے ؟ ہماری سول آبادیوں پر آگ کیوں برسائی جا رہی ہے؟یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری تک کو ٹارگٹ کیا ہے۔ آخر ایران ان ممالک کو اپنا دشمن بنانے پر کیوں تُلا بیٹھا ہے؟ایرانی دوسرے درجے کی قیادت کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ ساری دنیا کو اپنا دشمن بنا کر وہ امریکا و اسرائیل سے کیسے لڑ سکتے ہیں؟ اب انہوں نے جس طرح برطانوی اہداف کو ٹارگٹ کیا ہے یہ تو کھلم کھلا نیٹو کو چیلنج کرنے والی بات ہے جبکہ روس پہلے ہی یوکرین میں پھنسا ہوا ہے، چین کو آبنائے ہرمز میں اپنے خام تیل کی فکر ہے کہ کہیں اس کی سپلائی بند ہونے سے اس کے لیے مسائل پیدا نہ ہو جائیں۔معتدل ایرانی قیادت، بالخصوص پریزیڈنٹ مسعود پزشکیان جیسے ہوشمند لیڈران کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر قائدانہ رول ادا کرتے ہوئے پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں،عوام کی زندگیوں اور خوشیوں سے آگے کوئی دوسری چیز نہیں۔ آپ لوگوں نے مرگ مرگ کے لاحاصل اور نفرت انگیز نعروں سے کیا حاصل کر لیاہے؟آپ لوگوں نے اسی اپروچ کے تحت عظیم ایرانی قوم کے سیال سونے ،معدنیات ،گیسوں اور بڑے بڑے وسائل کو اسلحہ بندیوں ایٹم اور میزائل سازی کے ساتھ ساتھ ملیٹینسی میں جھونک رکھا ہے، قریباً نصف صدی پر محیط نفرت کی اس جنونی گیم سے امریکا تباہ کیا جا سکاہے نہ اسرائیل سے ایک انچ زمین ہی چھینی جا سکی ہے سکے ہیں البتہ اپنے کروڑوں عوام کا معاشی کچومر ضرور نکال کر رکھ دیا ہے۔ امیر ترین ایرانی قوم کو اس قدر غربت و افلاس میں مبتلا کر ڈالا ہے کہ ایک امریکی ڈالر آج انہیں پندرہ لاکھ ایرانی ریالز میں خریدنا پڑ رہا ہے، کبھی کسی نے سوچا انہیں دال روٹی کتنے میں پڑ رہی ہے؟ کوئی ہے جو عوام کے دکھوں کا بھی سوچے؟؟