دشمن……
میں شہر میں داخل ہوا، تو سڑکیں ویران تھیں۔
شہری اپنا کام کاج چھوڑ کر مرکزی شاہ راہ کی سمت روانہ ہوگئے تھے۔
میں وہاں پہنچا، تو مجھے ترانے سنائی دیے۔
فوجی پریڈ کے دوران توپوں کی سلامی دی جارہی تھی۔
’’کیا یہ مجمع ان دلیر جوانوں کے لئے ہے،
جنہوں نے جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا؟‘‘
میں نے ایک بوڑھے شہری سے ہوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ بوڑھے کی آنکھیں آنسوئوں سے تر تھیں۔
’’ہم اسکول کے ان معصوم بچوں کو یاد کر رہے ہیں،
جو بزدل دشمن کے میزائل حملے میں شہید ہوگئے۔‘‘