• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اب تو آپ کے پاس کتابیں ہیں،گوگل ہے اوربڑے پڑھے لکھے مبصر ہیں مگر ایک وقت تھا کہ بچوں کو گلوب کا تحفہ دیا جاتا تھا تاکہ انہیں معلوم ہو کہ سمندر کتنے ہیں،بر اعظم کتنے ہیں اور تو اور ڈیگو گارشیا کہاں ہے،جس کا اڈہ برطانوی وزیرِ اعظم چاہتے تھے کہ امریکہ بہت سہولت سے استعمال نہ کرے وغیرہ مگر جب میں ملتان میں کم وسیلہ بچوں کے ساتھ اسکول میں پڑھتا تھا تو بھی پاکستان میں ڈھاکہ یونیورسٹی،کراچی یونیورسٹی، پنجاب اور پشاور یونیورسٹی سےاحتجاج کی ایک لہر اٹھتی تھی اور اسکے نعرے ہمارےا سکول تک پہنچ جاتے تھے چاہے ہمیں کیا ہمارے استادوں کو بھی اس کا مطلب نہ آتا ہو۔ ایسا ہی ایک نعرہ’’لوممبا کی لاش واپس لائو‘‘ یہی نعرہ لگاتا ہوا میں اپنی کلاس کے ساتھ باہر آیا اور سڑک تک پہنچا،چوک پرلاٹھی اور مونچھوں والے ایک پولیس والے نے کہا’ہاں بھئی ایہہ لوممبا کون سی تے کیویں قتل ہویا؟‘

سچی بات ہے مجھے کچھ بھی علم نہیں تھا یوں وہ پولیس والا میرا استاد بن گیا جسے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ کانگو کہاں ہے اور امریکہ بہادر نے وہاں کے لیڈر کو کیوں قتل کرا دیا؟ تاہم میں نے شاید بچپن میں ہی یہ سیکھا کہ نعرہ وہ لگانا چاہئے جس کا مطلب آتا ہو۔

آج تو موبائل سے کھیلنے والا بچہ بھی بتا دے گا کہ کانگو کی آزادی کے بعد لوممبا کے خلاف اسکی فوج میں ہی بغاوت کرائی گئی اورپان افریقی تحریک کے پہلےشہید کے طور پر اس ڈاکٹر کو دیکھا گیا،کوئی باسٹھ برس قبل بلجیم نے اس کے قتل پر رسمی معافی مانگی۔ایشیا میں کئی نو آزاد ملک تھے مگر تیسری دنیا ایک رومان تھا ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ پر مشتمل تب بھارت کے جواہر لال نہرو چین ،یوگو سلاویہ،مصر کے ساتھ مل کےغیر جانب دار ممالک کے امام بنے ہوئے تھے سیٹو اور سینٹو کے معاہدے ہمارے گلے کا طوق تھے اس لئے امریکی سامراج کا ہمیں کاسہ لیس کہا جاتا تھا تب وکٹر ہیوگو اور بالزاک کا فرانس بھی الجزائر پر قابض تھا اس لئے بن باللہ کے ساتھ فرانسیسی جیلوں میں تشدد سہنے والی جمیلہ بوہری ہم ہائی اسکول کے طالب علموں کی ہیروئن تھی اس کے بعد شمالی ویت نام کے ہوچی من اور اس کے گوریلوں اور اس کے جنگلوں کے خلاف نیپام اور فاسفورس بم استعمال کرنے والے امریکہ کا مہذب چہرہ ہم سب نے دیکھا تب ترقی پسندی کا مطلب تھا کہ تیسری دنیا میں نسلی امتیاز اور معاشی استحصال کے خلاف مزاحمت کی جائے۔

فرانز فینن کی ’افتادگان خاک‘ کو پڑھا جائے پھر ہمارے لئے بلوچستان کے ڈاکٹر شاہ محمد مری نے نظریاتی تعلیم کیلئے درس گاہ کھول دی،اردو زبان کو باغیانہ لحن دیا ماہنامہ سنگت کو ایک ماڈل رسالہ بنایا شاید اس کی پہلی قیمت دو روپے تھی۔

پشتو،بلوچی،براہوی اور اردو بولنے والوں یعنی غلامی سے بغاوت کرنے والوں اور قوم پرستوں کی’نیلی نوٹ بک‘ بنا دیا پھر اس نے بلوچ عورت پر لکھتے لکھتے فہمیدہ ریاض،غوث بخش بزنجو،کشور ناہید،عبداللہ جمال دینی ،مست توکلی اور اس کی سمو پر مشتمل عشاق کے بائیس سے زیادہ قافلے چلائے۔

سچی بات ہے کہ جب عمران میر سے میں نے اس کا رسالہ ’پیلھوں‘ چھینا اور کوشش کی کہ اسے اردو،سرائیکی،پنجابی اور ہریانوی تحریروں سے مرصع کیا جائے،اسلم رسول پوری،اسلم انصاری،ارشد ملتانی،سلیم اختر کے ساتھ مسعود اشعر بھی ہمت دلانے آ گئے ایک وقت آیا کہ اس کی اشاعت دو ہزار تک جا پہنچی جب ہم نے پیلھوں کا ایک خاص نمبر چھاپا جس میں سرائیکیوں کی باغیانہ آواز عاشق بزدار، پنجابی کے معصوم استاد دامن جو اپنی کتابیں بچانے کیلئے اپنی کوٹھڑی کے چوہوں کو پراٹھے کھلاتے تھے اور مجید امجد جو اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر ہوکر بھی دیانت دار تھے۔

جن کے کئی عقیدت مند تھے مگران کی بیگم ساتھ نہیں رہتی تھیں جن کی شاعری کو وزیر آغا اور ان کے چاہنے والوں نے سیاسی ،سماجی شعور سے علیحدہ کرکے تقریباً میراجی بنانے کی کوشش کی۔

جب یہ نمبر شائع ہوا تو انتظار حسین نے مجھ سے پوچھا کہ اردو شاعروں میں سے مجید امجد کا انتخاب سمجھ میں نہیں آیا۔اسی رسالے میں جناب اسلم انصاری کے دو مضمون شائع ہوئے جنہوں نے ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کو تو کسی قدر سراسیمہ کیا ان کے حریف ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی کو بھی رنجیدہ کیا ہوگا وگرنہ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہارے ملتان کے اصحاب مزارات کا عقیدت مند ہوں وہاں جائوتو میرا سلام پہنچانا اب میں انہیں کیا بتاتا کہ میرے ایمرسن کالج ملتان کے فارسی کے استاد عبدالعزیز جاوید مرحوم کے دل کی کلی بھی بڑھاپے میں ایک فارسی داں خاتون سے شادی کے بعد بھی نہ کھلی تو انہوں نے مزید حج اور عمرے کرنے کی بجائے فارسی کی بعض اہم کتب کا ترجمہ کیا جن میں اصغر علی روحی کی’دبیرِ عجم‘ بھی شامل ہے۔

شمس الرحمن فاروقی نے کلیات ِمیر کی تشریح کی،تنقید لکھی تاریخ کو افسانے اور ناول میں ڈھالا مگر یہ قیاس نہ کر سکے کہ دبیرِ عجم کے ایک غلط حوالے پر اور میر شناسوں میں ڈاکٹر سید عبداللہ کو نظر انداز کرنے پر انصاری صاحب کا قلم حرکت میں آ چکا ہے۔انصاری صاحب نے پہلے چاہا کہ ان کا یہ مضمون مبین مرزا کے ’ مکالمہ‘ کراچی میں شائع ہو مگر مبین مرزا اب کافی سمجھ دار ہو چکے ہیں انہوں نے اپنے استاد کا مضمون شائع کرنے سے معذرت کی تو پھر پیلھوں ملتان کی باری آئی۔آصف فرخی نے بہت پہلے مجھ سے کہہ دیا تھا کہ رسالہ شائع کرنا اور پھر اس کی ترسیل ایک دردِ سر ہے یہ تو شاہ مری جیسا سمو کا عاشق کر سکتا ہے۔

ادھر آیت اللہ خامنہ ای کی معصوم پوتی اور غلام علی حداد کی نواسی کی شہادت نے ہم سب دل گرفتوں کو اشک بار کر دیا میرا ارادہ تھا کہ تہران یونیورسٹی کے ڈاکٹر کیومرثی سے رابطے کی کوشش کروں گا کہ شاگردِ عزیز حمیرا اشفاق نے کیومرثی کی شاگرد ڈاکٹر وفا یزدان منش کی بیٹی کے بارے میں ’ہم سب‘ میں لکھا کہ وہ تو اپنے کھلونوں کو جان دار سمجھتی تھی پھر تہران میں ایک سو چھیالیس بچیوں کی شہادت پر ہم آپ ہی تڑپ سکتے ہیں سلامتی کونسل کی صدارت کرنے والی میلانیا ٹرمپ تو نہیں۔

تازہ ترین