فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اسرائیل کے قیام کو 78 سال مکمل ہونے پر امریکا میں ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا فلسطینی تاریخ اور ’نکبہ‘ کو تسلیم کیے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ پالیسی ممکن ہے۔
الجزیرہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام کی تاریخ اور تکالیف کو نظر انداز کرتی آ رہی ہے جبکہ اسرائیل کو مسلسل سیاسی، مالی اور فوجی حمایت فراہم کی جا رہی ہے۔
کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو خالد الجندی نے کہا ہے کہ اگر صرف ایک فریق کے دکھ کو تسلیم کیا جائے اور فلسطینیوں کی اجتماعی تکلیف کو نظر انداز کیا جائے تو انصاف ممکن نہیں۔
اِن کے مطابق امریکا کی ’سیاسی فراموشی‘ نے فلسطین کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق 1948ء میں تقریباً 750000 فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا جبکہ 400 سے زائد دیہات اور شہر خالی کروائے گئے، متعدد علاقوں میں قتلِ عام بھی ہوا۔
امریکی کانگریس کی رکن رشیدہ طلیب نے مسلسل پانچویں بار ایک قرارداد (the ongoing Nakba and Palestinian refugees’ rights) پیش کی ہے جس میں نکبہ اور فلسطینی مہاجرین کے حقوق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس بار قرارداد کو 12 ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ 2022ء میں صرف 6 ارکان نے اس کی حمایت کی تھی۔
رشیدہ طلیب کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف ظلم صرف موجودہ اسرائیلی حکومت تک محدود نہیں بلکہ 1948ء سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی تاریخ دراصل مسلسل بے دخلی اور نسلی صفائی کی تاریخ ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں 7 اکتوبر 2023ء کے بعد اسرائیلی جنگ میں کم از کم 75000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ ناقدین امریکا کو اس جنگ میں اسرائیل کا اہم حمایتی قرار دیتے ہیں۔
ادھر امریکی عوام اور سیاست دانوں میں بھی اسرائیل کے حوالے سے رائے تبدیل ہو رہی ہے، حالیہ مہینوں میں اسرائیل کو اسلحے کی فروخت روکنے کی کوششوں کو کانگریس میں پہلے سے زیادہ حمایت ملی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق نکبہ کو تسلیم کیے بغیر فلسطین مسئلے کا منصفانہ حل ممکن نہیں کیونکہ تاریخ کو نظر انداز کرنے سے موجودہ بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔