• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران و امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی سے اسرائیل و بھارت دونوں خوفزدہ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی سے اسرائیل اور بھارت دونوں خوفزدہ ہیں اور اسی لیے دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے خلاف آوازیں اُٹھائی جا رہی ہیں۔

اب ایک بھارتی نژاد سویڈش تعلیمی اور سیاسی تجزیہ کار اشوک سوین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اب پاکستان کو خطے میں اپنے منصوبوں کے لیے بنیادی چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے۔

اشوک سوین نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں سینیٹ کمیٹی کی سماعت کے دوران امریکی سینیٹر لِنڈسے گراہم اور امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے درمیان ہونے والی بحث کی ویڈیو شیئر کی ہے۔

بھارتی تجزیہ کار کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی سینیٹر لِنڈسے گراہم نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی حکمتِ عملی پر سوالات اُٹھائے اور پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اگر ایران اپنے فوجی اثاثے پاکستانی اڈوں پر محفوظ کر رہا ہے تو پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں۔

اشوک سوین نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے پاکستانی بوٹس پر اسرائیل کے بارے میں غلط معلومات کا الزام لگانے کے بعد اب لِنڈسے گراہم نے پاکستان کی جانب سے ایرانی فوجی طیاروں کو مبینہ طور پر پناہ دینے پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی تجزیہ کار نے لکھا ہے کہ اسرائیل اب پاکستان کو خطے میں اپنے منصوبے کے لیے اپنے اہم چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے۔

اگرچہ اشوک سوین نے اپنی پوسٹ میں اسرائیل کے کسی خاص منصوبے کا تذکرہ نہیں کیا، تاہم اسرائیلی حکام نے حال ہی میں عوامی سطح پر مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا علاقائی اتحاد ’ہیگزاگون‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

اسرائیلی حکام کی جانب سے اس علاقائی اتحاد کا مقصد مبینہ طور پر کنیکٹیویٹی کو فروغ دے کر اقتصادی ترقی کو تقویت دینا اور ابھرتے ہوئے شدت پسند شیعہ اور سنی محاذوں کا مقابلہ کرنا بتایا گیا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید