چینی روبوٹکس کمپنی یونی ٹری روبوٹکس نے ایک ایسا جدید دیوہیکل روبوٹ متعارف کرا دیا ہے جسے دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین حقیقی زندگی کے ٹرانسفارمرز کی باتیں کرنے لگے ہیں۔
کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا GD01 دنیا کا پہلا انسان کے ذریعے چلایا جانے والا ٹرانسفارم ایبل میگا روبوٹ قرار دیا جا رہا ہے، جو 2 ٹانگوں اور 4 ٹانگوں دونوں انداز میں چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تقریباً 9 فٹ بلند اور 500 کلو گرام وزنی اس روبوٹ کے اندر ایک خصوصی کاک پٹ بنایا گیا ہے جہاں بیٹھ کر پائلٹ اسے کنٹرول کرتا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری ویڈیو میں GD01 کو طاقت ور انداز میں کنکریٹ کی دیوار توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نے لوگوں کو ہالی ووڈ کی مشہور فلم سیریز کی یاد دلا دی۔
کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ بنیادی طور پر سول ٹرانسپورٹ اور جدید صنعتی استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس کی ابتدائی قیمت تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار ڈالرز رکھی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت نے روبوٹکس کی عالمی دوڑ میں چین کو مغربی ممالک پر نمایاں برتری دلا دی ہے۔
روبوٹکس ماہر لوکاس زیگلر کے مطابق مغرب حیرت انگیز ہیومنائیڈ روبوٹس بنا رہا ہے، لیکن چین انہیں زیادہ تیزی، کم لاگت اور بڑے پیمانے پر تیار کر رہا ہے۔
یونی ٹری روبوٹکس کے نمائندے ہوانگ جیاوے نے کہا کہ GD01 ابھی پہلی جنریشن میں ہے اور مستقبل میں اس میں مزید حیران کن تبدیلیاں ممکن ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی صارفین اس روبوٹ کو دیکھ کر حیران رہ گئے، ایک صارف نے اسے ہر لڑکے کا خواب قرار دیا، جبکہ دوسرے نے مذاقاً لکھا کہ دنیا اب خلائی مخلوق کے ساتھ باکسنگ میچ کے لیے تیار ہے۔