• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امیر حمزہ:اےعیّاروں کے عیّار، ناہنجار عمرو ، یہ توبتا تیرا شرارتی ذہن ایران امریکہ جنگ کے بعد کے حالات کیا دیکھ رہا ہے ؟ اس جنگ کے پاکستان پر کیا اثرات ہونگے؟

عمرو عیّار : اے صاحب قرآن ،میرے آقا۔ ایران کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ ہی واحد طاقت رہ جائیگا، ایران اور اس کی پراکیسز ہی امریکہ اور اسرائیل کیلئے خطرہ تھیں اگر انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچ گیا تو امریکہ اور اسرائیل کا بول بالا ہوگا ان کیلئے خطرات ختم ہو جائیں گے۔

امیر حمزہ : اے عمرو سن لے، دنیا میں کبھی خلا نہیں رہتا۔ اسرائیل کے مقابلے میں سعودی عرب سامنے آجائیگا، اس کا پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، امریکہ اور اسرائیل کی یہ غلط فہمی ہے کہ ایران کو کمزور کر کے وہ مشرق ِوسطیٰ کے اکیلے مالک بن جائیں گے۔ اردن اور ابوظہبی دونوں معاشی طور پر طاقتور ہیں لیکن ان میں باغیانہ تصورات اور سرکشی کے آثار نظر نہیں آتے مگر سعودی عرب جتنا بھی جدید ہو جائے خادم الحرمین ہونے کی وجہ سے اسے اسلام کا جھنڈا تو بلند رکھنا ہی پڑے گا، اسلئے وُہ اسرائیل کے سامنے کبھی سرنگوں ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

عمرو عیّار: اے اللّٰہ کے پہلوان، صاحب قرآن، آپ مان لیں کہ دنیا بدل چکی امریکہ اکیلا ہی اس دنیا کا حاکم ہے ،سعودی عرب ہو یا ابوظہبی وُہ امریکہ سےہی ہتھیار لیتے ہیں اسی کی ٹیکنالوجی پر چلتے ہیں تووہ اس کیخلاف کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ایران میں انقلابی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی فی الحال اسرائیل کو دنیا سے مٹانے اور امریکہ کو چیلنج کرنے کا معاملہ کم از کم وقتی طور پر تو بالکل ختم ہو گیا ہے۔

امیر حمزہ : مسلمانوں کو ہمیشہ خدائی مدد آتی ہے بالآخر فتح تو مسلمانوں کی ہی ہونی ہے اسرائیل اور امریکہ نے غزہ میں مسلمانوں پر جو ظلم کیا ہے اس سے پہلی بار امریکہ اور یورپ میں اسرائیل کیخلاف نفرت پھیلی ہے، لوگ اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں، یہودیوں کے عزائم سے فضاان کیخلاف ہو رہی ہے مسلمانوں کا نقصان تو ہوا ہے لیکن اسلام کا مستقبل بہت روشن ہے ، آنے والے دور میں سارا یورپ اور امریکہ مسلمان ہو جائے گا۔

عمرو عیّار :اے صاحب قرآن! آپکی باتوں سے اختلاف تومیرے لیے کفر ہے مگر مسلمان 700 سال سے علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اندھے اور بہرے ہیں ان علوم کی عدم موجودگی میں مسلمانوں کو مار پڑنا تقدیر و تدبیر دونوں کے عین مطابق ہے۔

امیر حمزہ، اے عمرو! مجھے تو لگتا ہے کہ یہ جنگ لمبی چلے گی، امریکہ اور یورپ کو معاشی طور پر تباہ کر دے گی۔ اب تو جنگ میں روس بھی کود پڑا ہے۔ عمرو! امریکہ اور اسرائیل جنگ کی غلطی کر کے پھنس گئے ہیں۔

عمرو عیّار: اے میرے آقا! یہ چند روزہ جنگ ہے جس کا ایک ایک پیسہ خود خلیجی اسلامی ممالک سے وصول ہوگا اور امریکہ جنگ کے بعد پہلے سے مزید امیر ہو جائے گا، باقی رہی روس کی بات تو ان تلوں میں تیل نہیں۔ روس شام میں بشار الاسد کو نہیں بچا سکا، مہینوں بیت گئے یوکرائن کو نہیں ہرا سکا تو وہ امریکہ کا کیا مقابلہ کرے گا؟۔

امیر حمزہ : سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کا اصل مقصد کیا ہو سکتا ہے؟

عمرو عیّار: ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب نے پہلے سے ہی بھانپ لیا تھا کہ ایران سے اسرائیل اور امریکہ کی جنگ ناگزیر ہو چکی ہے اب جبکہ ایران کی کوئی مرکزی کمان نہیں رہی اسی لئے سعودی عرب میں مارے جانے والے میزائل مرکزی کمان کے حکم سے نہیں آتے بلکہ کسی انفرادی کمانڈر کا کارنامہ ہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسرائیل کے گماشتے خود ہی ایران اور سعودی عرب میں لڑائی کروانے کے لئے یہ کروا رہے ہوں بہرحال سعودی عرب میں گرائے جانے والے میزائلوں پر پاکستان کو تشویش ہے۔

امیر حمزہ : پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ کے نتیجے میں سنا ہے سعودی عرب نے پاکستان کو 5ارب ڈالر دیئے ہیں وہ بطور ضمانت بینک میں پڑے رہیں گے تاکہ پاکستان کیلئے ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔

عمرو عیّار: پاکستان کے ساتھ وعدے تو بہت ہوئے ہیں لیکن معلوم نہیں کیا بات ہے کوئی وعدہ پورا نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر پسماندہ رکھنے کی کوئی بین الاقوامی سازش کار فرما ہے پاکستان معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا تو پھر اسکو پکڑنا مشکل ہو جائے گا۔

امیر حمزہ:پاکستان کو عالم اسلام کی لیڈر شپ کیلئے تیار ہو جانا چاہئے امریکہ اور ٹرمپ کی دوستی اسے نقصان پہنچا رہی ہے۔

عمرو عیّار :اے صاحب قرآن، کہاں ہے اسلامی کانفرنس؟ کہاں ہے مسلم اُمہ؟ یہ خواب و خیال کی باتیں ہیں ان کا حقیقت سےکوئی تعلق نہیں؟ پاکستان کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے مسلم دنیا کے بارے میں سچ ہی کہا تھا ۔ صفر + صفر = صفر ۔ ہمیں امت مسلمہ کے خواب سے نکل کر پاکستان فرسٹ پر غور کرنا چاہئے ۔ افغانستان بھی ہمسایہ ملک ہے مگر وہ پاکستان کو مسلسل عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔

امیر حمزہ:اسلام کو بچانا ہے تو امت مسلمہ کا اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ یہ مسلمانوں کے حاکم منافق ہیں،امریکہ سے ملے ہوئے ہیں، یہ حکمران بدلیں گے تو امت مسلمہ کا بکھرا ہوا شیرازہ پھر سے اکٹھا ہوگا۔ یہ ہو گیا تو اسلام کا کفر کی دنیا میں بھی بول بالا ہو جائے گا۔

عمرو عیّار: حضوروالا ! یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے، اسامہ بن لادن اور شدت پسندوں نے مغربی دنیا میں مسلمانوں کیلئے دنیا تنگ کردی ہے اب مسئلہ اسلام کو پھیلانے کا نہیں بلکہ اسلام کو بچانے کا ہے۔ اب تو پاکستان اور سعودی عرب کو جنگوں میں الجھنے کی بجائے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا ہے۔ علم، سائنس و ٹیکنالوجی ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔

امیر حمزہ: اے عیّار کمبخت ، اصل بات یہ ہے کہ ہم اسلام کی اصل تعلیمات سے دور ہو گئے ہیں ،امت کو تو اپنے دوست دشمن کی پہچان ہے البتہ مسلم اُمہ کے حکمران بکے ہوئے ہیں یہ سارے امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔

عمرو عیّار: اے صاحب قرآن ! اے میرے آقا ۔ آپ کو تو اللّٰہ تعالیٰ نے علم ِ َلدُنّی بھی دیا ہے آپ کے سامنے جادوگر بھی بے بس ہے، کوئی پہلوان آپ کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا آپ تو ماورائی قوتوں کے مالک ہیں مگر یہ دنیادار حکمران بہت عقلمند ہیں انہیں علم ہے کہ طاقت کی دنیا میں کس طرح سے اپنے ملکوں اور اقتدار کو بچا کر رکھنا ہے اگر یہ عوامی جذبات کے مطابق چلیں، جذبات میں آکر اسامہ بن لادن، حماس یا حزب اللہ جیسی پالیسیاں بنائیں تو ان کے ملک عدم استحکام کا شکا ر ہو جائیں گے۔

امیر حمزہ : اے عیّاروں کے عیّار، اےبے بدل عیار، تو کیا سمجھتا ہے کہ ان بدبخت حکمرانوں کی عقل نے عالمِ اسلام کو بچا کر رکھا ہوا ہے توبہ کرو خدا سے۔ یہ سب اس ذاتِ باری کا کرشمہ ہے ان بدبختوں کا اس میں کوئی کردار نہیں۔

عمرو عیّار: اے پہلوانوں کے پہلوان، آپ کی دانش پر کوئی شک نہیں مگر یہ سارے حکمران بھی خدا کی مرضی سے ہی حکمران بنے ہیں انہیں بھی کچھ احترام تو ملنا چاہئے یہ ملکوں کو چلا رہے ہیں مسلمانوں کی حکومتوں کا نظم ونسق سنبھالے ہوئے ہیں یہ خدا کا ان پر فضل نہیں تو کیا ہے؟ وہ گناہ گار ہونگے آپ جیسے پاکباز اور پہنچے ہوئے نہیں ہیں مگر خدا نے انہیں اقتدار دیا ہے تو عقل بھی دی ہوئی ہے۔

امیر حمزہ :یہ سارے بھی تیری طرح کے عیّار ہیں لیکن آئو دعا کریں کہ آنے والے دن مسلم ممالک کیلئے خیر کی خبر لائیں یہ بھی خوشحال ہوں اور امن کی دنیا میں رہیں....

تازہ ترین