سوئٹزر لینڈ نے مشرق وسطیٰ جنگ پر اپنے موقف میں کہا کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
وسطی یورپی ملک سوئٹزرلینڈ کے وزیر دفاع مارٹن فسٹر نے اس حوالے سے اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل کونسل کی رائے ہے کہ ایران پر حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، یہ تشدد کی ممانعت کے اصول کے خلاف ہے۔
گزشتہ صدی کی دو عالمی جنگوں میں غیر جانبدار رہنے والے ملک کے وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ان کا اشارہ تمام ممالک کی طرف ہے جو تشدد کی ممانعت پر عمل نہیں کر رہے، جن میں امریکہ اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے، اس طرح انہوں نے بھی ایران کی طرح بین الاقوامی قانون توڑا ہے۔
دریں اثنا دیگر یورپی رہنماؤں نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
جرمنی کے نائب چانسلر اور وزیر خزانہ لارس کلنگ بائل نے کہا کہ انہیں اس جنگ کی قانونی حیثیت پر سنگین شبہات ہیں۔
ان کے مطابق دنیا ایک ایسے خطرناک دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں قوانین ختم ہو رہے ہیں اور صرف طاقتور کا قانون چل رہا ہے۔ اسپین نے بھی ایران پر امریکی و اسرائیلی بمباری کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔
ماہرین نے عرب میڈیا کو بتایا کہ امریکی و اسرائیلی حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں، جو جارحیت پر پابندی لگاتا ہے اور ان حملوں کے کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔