• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کی دنیا ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑی ہے جہاں بارود کی بُو صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اسکی تپش بیک وقت نیویارک کی وال اسٹریٹ سے لے کر بیجنگ کے صنعتی مراکز تک محسوس کی جارہی ہے۔ حالیہ جیو پولیٹکل منظر نامہ چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا ہے کہ ہم محض ایک عالمی جنگ نہیں بلکہ عالمی معاشی تباہی کے دہانے پر آکھڑے ہیں۔ ایران ، اسرائیل، امریکہ کے درمیان جاری جنگ کوئی اچانک پیدا ہونے والا واقعہ نہیں فریقین نے تقریباً تین دہائیوں سے ایک طویل منصوبہ بندی، حکمت عملی، سوچ اور نظریئے کے تحت اس پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ ایران گزشتہ دو دہائیوں سے ایک ایسی طویل اور تھکا دینے والی غیر روایتی جنگ کی تیاری کررہا تھا جس کا مقصد میدان جنگ میں کم سے کم دفاعی وسائل کو زیادہ سے زیادہ مہارت سے استعمال کرکے فتح سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اپنے حریفوں اور ان کے حواریوں کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہے۔ ایران کی یہ حکمت عملی اب کامیابی کی صورت کھل کر سامنے آرہی ہے۔ جہاں وہ غیر روایتی طریقوں سے خطے میں امریکی و اسرائیلی اثرورسوخ کی بنیادیں ہلا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی ممالک کے توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنانا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ متحدہ عرب امارات ، قطر، بحرین، کویت میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتخانوں اور فوجی تنصیبات پر شدید میزائل وڈرونز حملے اور اثاثوں کی تباہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اعصاب شکن طویل جنگ کیلئے تیار ہے۔اب فوجی میدان میں بھی صورت حال بدل چکی ہے۔ امریکہ نے دہائیوں تک اپنی فوج کو مہنگے ہتھیاروں اور میزائلوں کے ساتھ بڑے ٹکراؤ کیلئے تیار کیا لیکن آج اسے ایران کے سستے ڈرونز اور غیر روایتی حملوں کا سامنا ہے۔ جو معاشی طور پر امریکہ کیلئےبہت مہنگے ثابت ہو رہے ہیں۔ امریکی اسلحہ خانوں میں گولہ بارود کی مبینہ کمی اور دفاعی پیداوار کی سست رفتار اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ایک طویل جنگ لڑنااب واشنگٹن کیلئے مالی اور دفاعی طور پر ناممکن ہوچکا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش، تیل کی عالمی سپلائی چین کو بُری طرح متاثر کرنے کی ایک ایسی خطرناک حکمت عملی ہے جو نہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دے گی بلکہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی معیشت کو دیوالیہ ہونے کے قریب لے جاسکتی ہے۔ یہی معاملہ پینے کے صاف پانی کے ذخائر اور پلانٹس کو تباہ کرنےکیلئے ممکنہ ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ اگر ایران ایسا کرتا ہے تو سنگین انسانی بحران پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ امریکہ کی ظاہری چمک دمک، دراصل ”پیٹروڈالر“ کی مرہون منت ہے۔ جہاں خلیجی ریاستیں اپنا تیل ڈالرز میں بیچتی ہیں اور وہی سرمایہ واپس امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ری سائیکل ہوتا ہے لیکن اب یہ نظام خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ اگر خلیجی ممالک کے تیل کا کاروبار متاثر ہوتا ہے یا وہ سکیورٹی کے خوف سے اپنا سرمایہ نکال لیتے ہیں تو امریکی معیشت کا وہ غبارہ پھٹ سکتا ہے جسے ایک طویل عرصے سے ”مالیاتی پونزی اسکیم“ کہا جارہا ہے۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت AI کے شعبے میں ہونے والی حالیہ ترقی، جس پر امریکہ کا پورا مستقبل ٹکا ہوا ہے وہ بڑی حد تک خلیجی سرمائےکی محتاج ہے۔ جس دن یہ سرمایہ نکل گیا، سلیکون ویلی کا یہ سحر ٹوٹ جائے گا اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں وہ بھونچال آئے گا جسکی مثال تاریخ میں پھر کبھی نہیں ملے گی۔ یہ صورت حال صرف دو یا تین ممالک کا ٹکراؤ نہیںبلکہ دنیا کے نئے معاشی نقشے کی تیاری ہے۔ اگر عالمی طاقتوں نے طاقت کے اس توازن کو نہ سمجھا تو جدید ٹیکنالوجی کا یہ سنہرا دور ایک ایسی کساد بازاری میں بدل جائیگا جہاں ڈالر کی حیثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہے گی اور عالمی نظام کی بساط ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اُلٹ جائیگی۔ شواہد بتاتے ہیں کہ یورپ اب امریکہ کے ساتھ نہیں کھڑا۔ روس، یوکرائن جنگ نے فاصلے بہت بڑھا دیئے ہیں ۔ اس جنگ نے دنیا کو دو واضح سوالوں میں اُلجھا دیا ہے۔ کیا واشنگٹن اپنی فوجی برتری کے ذریعے تہران کو جھکا دے گا یا ایران ایک بار پھر دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کو یہ سبق سکھا دے گا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کا آغاز تو آپ کرسکتے ہیں مگر اس کا اختتام کسی کے اختیار میں نہیں۔ جب ہم ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک اور گھناؤنا کردار مودی سرکار کا بھی سامنے آتا ہے۔ جس کی ملی بھگت سے یہ کھیل رچایا گیا ۔ بھارت میں جنگی مشقوں سے واپسی پر ایران کے جنگی بحری جہاز کی تباہی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ پس پردہ بھارت نے امریکہ یا اسرائیل کو خفیہ معلومات فراہم کی ہیں۔ عالمی و علاقائی سنگین صورت حال کے پس منظر میں یہ پیش گوئی کرنا آسان محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ ایران کیخلاف جنگ ہار رہا ہے ، ٹرمپ کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں اب تو صورت حال وائٹ ہاؤس میں دعاؤں اور نجومیوں کے ہتھے چڑھ چکی ہے۔ ایسے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں کہ ٹرمپ کو ایپسٹن فائلز میں کم عمر لڑکی سے جنسی تعلق کے سکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام پر مواخذے کا سامنا کرنا پڑے یا وہ اپنی مدت ِ اقتدار پوری نہ کر سکیں۔ مغرب کو ایران کے ساتھ ایک نیا امن معاہدہ تشکیل دینا ہوگا۔ امن کو موقع دینے کی اب یہی تدبیریں باقی رہ گئی ہیں ورنہ لہو رنگ جنگ میں دنیا کا معاشی ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے۔

تازہ ترین