بھارتی سپریم کورٹ نے معروف مشروب روح افزاء کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسے ’فروٹ ڈرنک‘ قرار دے دیا ہے جس کے بعد اس پر زیادہ ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکے گا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ صرف اس بنیاد پر کہ روح افزا کو ’شربت‘ کے طور پر مارکیٹ کیا جاتا ہے، اسے زیادہ ٹیکس والے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا، روح افزا میں 10 فیصد پھلوں کا رس شامل ہے جس میں 8 فیصد انناس اور 2 فیصد سنگترہ شامل ہے جبکہ باقی اجزاء میں چینی کا شربت اور جڑی بوٹیوں کے عرق شامل ہیں۔
یہ معاملہ بھارت میں ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کی جانب سے دائر اپیل پر سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل الہٰ آباد ہائی کورٹ اور ٹیکس حکام نے روح افزا کو ’غیر درجہ بند‘ شے مانتے ہوئے اس پر 12.5 فیصد وی اے ٹی عائد کیا تھا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روح افزا اتر پردیش ویلیو ایڈڈ ٹیکس (UPVAT) ایکٹ کے تحت ’فروٹ ڈرنک/پروسیسڈ فروٹ پروڈکٹ‘ کے زمرے میں آتا ہے جس پر متعلقہ مدت (2008ء سے 2012ء) کے دوران صرف 4 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت دی گئی درجہ بندی کو ٹیکس قوانین پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ روح افزا بنانے والی کمپنی کے لیے بڑا مالی ریلیف تصور کیا جا رہا ہے۔