مغربی انٹیلی جنس کے ایک اہلکار کے مطابق روس نے ایران کو یوکرین پر ڈرون حملوں جیسی حکمتِ عملی اپنانے کا مشورہ دیا ہے، جس کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے تیار کردہ لیکن روس میں بڑے پیمانے پر تیار ہونے والے شاہد ڈرونز خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظام کو غیر متوقع طور پر عبور کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ماضی میں روس ایران کو عمومی نوعیت کی انٹیلی جنس معلومات فراہم کرتا تھا، تاہم اب ڈرون حملوں سے متعلق مخصوص حکمتِ عملی بھی شیئر کی جا رہی ہے۔
ایک مغربی اہلکار کے مطابق روس یوکرین میں جس طریقے سے ڈرونز کو جھنڈ کی صورت میں ایک ساتھ بھیجتا ہے اور انہیں مسلسل راستہ تبدیل کرنے کی ہدایات دیتا ہے تاکہ فضائی دفاعی نظام کو دھوکا دیا جا سکے، اسی طرز کی حکمتِ عملی ایران کو بھی بتائی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کریملن سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے، تاہم تاحال روس کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ روس نے ایرانی حکومت کو ڈرونز کے معاملے میں تعاون فراہم کرنا شروع کر دیا ہے اور امکان ہے کہ وہ میزائل اور فضائی دفاعی نظام کے حوالے سے بھی مدد کرے گا۔
یوکرین نے خلیجی خطے میں اپنے ڈرون انٹرسیپشن ماہرین بھی بھیج دیے ہیں تاکہ نسبتاً سستے ایرانی شاہد ڈرونز کو روکنے کے طریقے شیئر کیے جا سکیں۔
یوکرین نے اس مقصد کے لیے چھوٹے انٹرسیپٹر ڈرون تیار کیے ہیں جن کی قیمت تقریباً 5 ہزار ڈالرز بتائی جاتی ہے۔
مغربی اہلکار نے خلیج میں بڑھتے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے، سمندری ڈرونز اور روایتی ماہی گیر کشتیوں کے ذریعے امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی بھی اپنا سکتا ہے۔
ایران نے جنگ کے آغاز میں امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ داغے گئے میزائل جہاز کے قریب بھی نہیں پہنچے۔
مغربی انٹیلی جنس اہلکار نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے لیے چین کی ممکنہ حمایت بھی تشویش ناک ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔