ایران کو گرمیوں کے آغاز پر توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے جہاں بجلی، گیس اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی طلب رسد (Supply) سے تجاوز کر گئی ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگی کشیدگی کے باعث ایران میں توانائی کے شعبے کو نقصان پہنچا ہے جس سے حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے شہریوں سے توانائی کے کم استعمال کی اپیل کرتے ہوئے دفاتر میں ایئر کنڈیشنر کا درجۂ حرارت کم نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے، حکومت طویل عرصے سے بجلی، گیس اور ایندھن پر بھاری سبسڈی دے رہی ہے تاہم معاشی دباؤ، مہنگائی اور بجٹ خسارے کے باعث یہ پالیسی اب بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے مگر بڑھتی ہوئی طلب کے باعث دوبارہ ایندھن درآمد کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
جنگ کے دوران توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے یومیہ پیٹرول کی پیداوار 115 ملین لیٹر سے کم ہو کر 110 ملین لیٹر رہ گئی ہے جبکہ کھپت بڑھ کر 140 ملین لیٹر روزانہ تک پہنچ گئی ہے۔
حکومت نے پیٹرول کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں اور پیٹرول پمپس کو اضافی ایندھن کی فراہمی محدود کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں توانائی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ممکن نہیں کیونکہ اس سے عوام میں بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب چھوٹے کاروباری افراد نے بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافے کی شکایت کی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اگر توانائی کی پیداوار اور طلب کے درمیان فرق برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں ایران کو مزید بجلی کی بندش اور گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔