امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس میں ایک سماعت کے دوران اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سوال پر واضح مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کا اندازہ ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس خواکین کاسترو نے روبیو سے سوال کیا کہ آیا اسرائیل جوہری ہتھیار رکھتا ہے یا نہیں؟ اس سوال پر مارکو روبیو نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی گفتگو خفیہ اجلاس میں کی جا سکتی ہے۔
مارکو روبیو نے اعتراف کیا کہ اسرائیل کے جوہری پروگرام پر سرکاری خاموشی امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ رہی ہے۔
خواکین کاسترو نے مؤقف اختیار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں کانگریس کو اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں سے متعلق مکمل معلومات ملنی چاہئیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے کبھی باضابطہ طور پر جوہری ہتھیار رکھنے کی تصدیق نہیں کی تاہم عالمی سطح پر اسے جوہری طاقت تصور کیا جاتا ہے، اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن بھی نہیں ہے۔
دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں 30 امریکی اراکینِ کانگریس نے محکمۂ خارجہ کو خط لکھ کر اسرائیل کے جوہری پروگرام اور اس پر امریکی خاموشی کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔