• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1979ء کے اسلامی انقلاب نے ابھی ایران ہتھیایا نہیں تھا کہ تہران اور سینکڑوں دوسرے شہروں کی سڑکیں احتجاجی ہجوم سے لبالب بھری، ایک ہی نعرہ ’مرگ بر امریکہ‘ 46سال بیتنے کو، ایرانی فضا آخری خبریں آنے تک اسی جوش و ولولہ سے ’مرگ بر امریکہ‘ کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔

28 ؍دسمبر 2025ء سے شروع احتجاجی مظاہروں کے اندر جب منظم تشدد عام ہوا تو تشدد کی حوصلہ افزائی اور حمایت میں امریکہ نے ایران پر حملے کی دھمکی دی۔ اگرچہ گیدڑ بھبکیاں، خدشہ اتنا کہ بوجوہ EPSTEIN FILES سے بلیک میل ہوکر صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کر ہی نہ دے۔ اسلامی انقلاب شیاطین کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ پچھلے 46سال میں کونسا حربہ، جو ایران کو تباہ کرنے کیلئے آزمایا نہیں گیا ۔ پچھلے سال 12روزہ جنگ میں امریکہ کودا اور B-52 بمبار طیاروں کے ذریعہ ایرانی نیوکلیئر سائٹس پر بمباری کی تو صدر ٹرمپ نے صراحت سے بتایا کہ ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا گیا۔ سمجھ سے بالاتر کہ جنوری 2026ء سے پھر جوہری پروگرام کا قضیہ کہاں سے کھڑا ہو گیا ۔ 12 جون 2025 کو جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو بقول ٹرمپ ’ایران نے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی‘ ۔ 12روزہ جنگ کی ذلت ہی کہ اسرائیل ہر صورت امریکی شہباز کو ایرانی ممولے سے لڑوانے پر مصر تھا۔ نیتن یاہو پچھلے تین ماہ میں درجن بار امریکہ گیا اور بالآخر ٹرمپ کو جنگ کیلئے آمادہ کر لیا۔ جنوری میں فسادات پر اُکسانے والے 800کے قریب اسرائیلی اور CIA کارندے جب گرفتار کئے اور انکو آناً فاناً پھانسی دی جانی تھی۔ صدر ٹرمپ تو لڑائی کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا۔ دھمکی دی کہ اگر غداروں کو پھانسی دی گئی تو ہم ایران پر بم گرا دیں گے ۔ ایرانی قیادت انتہائی زیرک اور حکمت سے مالامال، پھانسیاں ملتوی کر دیں ۔ ماحول نہ بنا تو پھر سے یورینیم افزودگی کا تنازع اُٹھا دیا ۔ ایران نے کسی نہ کسی طرح امریکہ کو مذاکرات پر آمادہ کر لیا۔ یورینیم کی افزودگی کی ہر حد اور قدغن ماننے کا عندیہ بھی دیا تو نئی شرط لگا دی کہ میزائل پروگرام بند کرو اور خطرناک ہتھیار ہمارے حوالے کرو۔ ابھی نئی شرائط پر مذاکرات ہو ہی رہے تھے کہ دوران مذاکرات حملہ کر دیا۔ اس سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان جامع ایٹمی ہتھیار نہ بنانے اور اپنی یورینیم افزودگی پلانٹس کے معائنے سخت کرنے کا ایک معاہدہ ) JCPOA ) صدر اوباما انتظامیہ کیساتھ جولائی 2015ء میں ہوا۔ جبکہ اس معاہدے کے ضامن روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی تھے ۔ صدر ٹرمپ نے عملداری سے پہلے بغیر کسی وجہ معاہدہ پر خطِ تنسیخ پھیر دیا۔

ایسے وقت جبکہ 1979ء کا انقلاب ابتلا اور آزمائشی دور سے گزر رہا تھا، ملکی ادارے فوج، بیوروکریسی کے نمایاں لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ گئےتھے۔ فوج کا نظام درہم برہم اور بیوروکریسی کا ادارہ زمیں بوس تھا۔ انقلاب نے ابھی پاؤں نہیں جمائے تھے کہ پابندیاں عائد ہو گئیں، 1980ء سے 1983ء کے درمیان صدر، وزیراعظم، پارلیمان کے 73ممبران، سپریم کورٹ کا چیف جسٹس، سائنسدان، مذہبی اسکالر چن چن کر شہید کئے گئے، 8سال درجنوں ممالک کی مدد شامل، عراق کو ایران پر حملہ آور رکھا، سازشوں کا لامتناہی سلسلہ آج تک ختم نہ ہوا ۔ 1978ء سے ایران میں احتجاج شروع ہوئے تو باقاعدہ دامے درمےقدمے سخنے ساتھ دیا۔ امریکہ تعلیم کیلئے پہنچا تو ان احتجاجی مظاہروں کا عملی حصہ بنا ۔ خوشی کی انتہا جس اسلامی انقلاب کا خواب پاکستان میں دیکھ رہا تھا ، من و عن ایران میں آچکا تھا ۔ شاہ ایران کیخلاف احتجاجی تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی کہ مغربی میڈیا نے مذہبی شیعہ تحریک کا نام دیا ۔ ڈھنڈورا پیٹا تاکہ ایران عالم اسلام سے کٹ جائے ۔ امریکہ کےایماپر ،تمام اسلامی ممالک نے ایسے دینی رہنماؤں کی پذیرائی کی ، جنہوں نے بڑھ چڑھ کر حکومتی سرپرستی میں ایران کیخلاف فرقہ واریت کو ہوا دی۔

اگرچہ ایرانی انقلاب فرقہ واریت کے تعصب میں کسی حد تک رَنگا تھا، انقلاب کے سَرخیل ، مدارالمہام امام خمینیؒ کا قبلہ سو فیصد درست تھا ۔ اقتدار سنبھالتے ہی تمام اسلامی دنیا کے چیدہ چیدہ دینی رہنما ، مذہبی اسکالر( پاکستان میں مولانا مودودیؒ ) کے پاس خصوصی نمائندے بھیجے ، بلاتفریق رابطے قائم کئے ۔ اقتدار سنبھالتے ہی پہلا اعلان اسرائیل کو سرزمین فلسطین سے فارغ کرنا اور فلسطینی تحریک آزادی کی مدد کو فریضہ اقامت دین قرار دیا ، ایرانی آئین کا حصہ بنایا ۔ آزاد فلسطین کی تحریک میں PLO ، الفتح نمایاں ، ایران ایسی ساری تنظیموں کی حمایت میں سینہ سپر ہو گیا ۔ بیت المقدس کی آزادی کیلئے 27 رمضان المبارک کو یوم القدس منانے کا اعلان کیا ۔ تب سے آج تک ایرانی پوری دنیا میں 27 رمضان کو یوم القدس مناتے ہیں ۔ جب 1987ء میں حماس وجود میں آئی ، باوجودیہ کہ اخوان المسلمین کا آف شوٹ تھی ، ایران نے پلک جھپکائے بغیر حماس کو گود لیا جبکہ سُنی حکمران حماس کی حمایت کا سوچ کر ہی سُن ہو چکے تھے ۔7 اکتوبر 2023ء القسام بریگیڈ کا حملہ ممکن ہی نہ تھا اگر ایران کی شفقت اور سایہ میسر نہ ہوتا ۔ اگر اسرائیل زمانے میں رسوا ہے تو 7 اکتوبر 2023 اسکا نقطہ آغاز تھا۔ ایران دو ریاستی فارمولے کا نہیں ، صرف فلسطینی ریاست کا داعی ہے اور اسرائیل کو گھس بیٹھیا تصور کرتا ہے۔

28 فروری کو کئے جانیوالےامریکہ اسرائیل حملےکا آج 12 واں دن ہے ، ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں ۔ ایران کیلئے اپنی بقا کا مسئلہ ، اپنی آزادی اور سالمیت کی ڈٹ کر حفاظت کر رہا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل جنگ سے نکلنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ، مگر کوئی راستہ ملنے کو نہیں ۔ ایران اگلے چھ ماہ جنگ کی حکمتِ عملی کیساتھ میدان عمل میں ہے ۔ حکمت عملی کا کمال کہ دنیا کی اکانومی آج ایران کے رحم و کرم پر ہے ۔ فقط آبنائے ہرمز چند ماہ بند رکھنی ہے ، دنیا اقتصادی تباہی کے دہانے پر ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا کاٹرمپ کو جنگ بند کرنے پر اصرار ہے ۔ ایرانی فوج کے ترجمان کاتازہ بیان کہ منگل سے درجنوں ممالک ہمارے پاس امریکہ کا جنگ بندی پیغام لیکر آئے ، مگر ہمیں جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ایران کی نئی قیادت نےجنگ بندی کیلئے ممکنہ تین مطالبات رکھے ہیں۔(1) امریکہ 30 دن کے اندر اپنے سارے فوجی اڈےمع سازو سامان اٹھائے اور خطے سے کوچ کر ے ، ( 2) 60 دن کے اندر ایران پر ہر طرح کی ٹیکنالوجی ٹرانسفرکی پابندیاں ختم کرے ، (3)پچھلے 45 سال کی پابندیوں ، ٹارگٹ کلنگ،آپریشنز اور جنگوں سے ایران کا 800 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے ، پورا کیا جائے۔ اگر یہ تینوں مطالبات پورے نہ ہوئے تو (1) ایران آبنائے ہرمز کو مکمل بند کر دے گا ، (2) روس اور چین اپنے فوجی اڈے ایرانی سرزمین پر بنائیں گے، (3)ایران نیوکلیئر ہتھیار اپنے میزائلوں پر نصب کر دے گا ۔ کر لو جو کرنا ہے ’’ ڈٹ کر کھڑا ہے ایران‘‘ ۔

تازہ ترین