جاپان سے ایک دوست نے اپنے والدین کے بارے میں بتایا ’’ وہ آخری دنوں میں ایک دوسرے کو پہچانتے بھی نہیں تھے اور مجھے میری ماں ضرور پہچان لیتی تھی۔چلئے مان لیا کہ والد تو پہلے ہی کم گو تھے اور ہیروشیما پر جب بم گرا تو ان کے بھائی اس کی نذر ہوئے، اس لئے وہ برسوں تک ہیروشیما کی طرف منہ کرکے نہیں بیٹھتے تھے مگر والدہ کو تو پھولوں کا، پھولدار کپڑوں کا، کھلکھلاکےہنسنے کا اور تصویریں بنانے کا شوق تھا ،میں لاہور میں پڑھنے کیلئے گیا تو وہ پہلے لاہور کے اس کالج کی تصوراتی تصویریں بناتی تھیں،پھر جب میں ان کیلئے لاہور اور اپنے کالج کی تصویریں لایا تو پھر انہوں نے درجنوں تصویریں بنا ڈالیں،جب ڈاکٹر تبسم کاشمیری اور ان کی بیگم صاحبہ اوساکاآئے اور چوبیس برس وہاں رہے تو وہ سمجھتی تھیں کہ سارے لاہوری خوبصورت ہوتے ہیں شعر کہتے ہیں اور لال شربت پیتے ہیں مگر خدا بھلا کرے زاہد منیر عامر اور ملتان کے ایک استاد کا کہ وہ اوساکا آئے تو ان کے بنائے پورٹریٹ میں سرمئی رنگ استعمال ہونے لگا ۔‘‘ جاپانی سمجھتے ہیں کہ مراقبے سے عشروں پہلے گئی ہوئی روحوں سے رابطہ ہو سکتا ہے مگر میں تو دنیا دار آدمی ہوں قبولیت کی گھڑیوں میں بھی کرکٹ میچ دیکھتا اور اذیت سہتا رہتا ہوں،اگر میں اپنے دوست کی والدہ مرحومہ کی روح سے رابطہ کر سکتا تو اپنے بیٹے احمد تمثال کی تصویر دکھا کے کہتا کہ کیا آپ کو ۔جاپان کے ایک پرانے دارالحکومت نارا میں ہرنوں کے پارک میں آپ کے ساتھ ہنستا بھاگتا یہ لڑکا یاد ہے؟
رئوف کلاسرا سمیت کئی لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ ماضی کی یادوں سے نکل آنا چاہئے۔ بھلا یہ ممکن ہے ؟ یہی ماضی ماں باپ بہن بھائی استاد اور دوست سنبھالے رکھتا ہے پھر کتابیں البم موسیقی اس یادداشت میں رنگ بھرتے ہیں۔اس یادداشت میں صرف محبت کے ہلکورے نہیں ہوتے کچھ ٹھوکریں بھی ہوتی ہیں،دل ٹوٹنے کی صدائیں بھی جس سے آپ کٹھور نہیں ہوتے ۔ جو بچے باہر جاتے ہیں اور پلٹ کے گھر نہیں آتے تو میری رائے میں ماں باپ کو تڑپنا نہیں چاہئے نہ ان پر جذباتی کمندیں پھینکنی چاہئیں ،جو توجہ ہم آپ نے اپنے بچوں پر صرف کی اس سے کہیں زیادہ انہیں اپنے بچوں پر صرف کرنے دیں۔باہر جانےوالے ان پاکستانی بچوں کو امریکہ ،کینیڈا،آسٹریلیا،جرمنی انگلستان یا سویڈن وغیرہ میں وہاں کے قاعدے،قانون اور اقدار کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے،ان پر یہ زور نہیں ڈالنا چاہئے کہ ہمیں بھی ساتھ رکھو بے شک نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں یاد آتے ہیں مگر آج بہت سہولتیں ہیں ویڈیو کال کریں ان سے انگریزی میں بات کریں اچھے لہجے میں اور ان کی معصوم باتوں سے لطف لیں۔ سیدھی بات ہے کہ جب آپ اپنے بچوں کو کیمبرج نظام امتحانات کے تحت اے لیول،او لیول کراتے ہیں تو دل بڑا کر کے سوچیں کہ یہ پرندے واپس نہیں آئیں گے،مجھے کوئٹہ کالج کے اپنے رفیق کار ڈاکٹر عطا میراں کی نصیحت یاد آتی ہے کہ سارے بچے لائق نہیں بنانے چاہئیں ایک آدھ کی نالائقی گوارہ کر لیں کہ یہ سعادت اس کے حصے میں آتی ہے کہ والدین کے بڑھاپے کی لاٹھی بنے۔بعض دوست تو ان بوڑھوں کو بھی سمجھاتے ہیں کہ ان استعاروں"بڑھاپے کی لاٹھی" وغیرہ کو بدلیں ہو سکے ربِ کائنات کی بےآواز لاٹھی کاذکر بھی کسی مسند نشیں کے سامنے نہ کریں کہ وہ اسے دھمکی خیال کرتے ہیں۔ایک وقت تھا جب اردو افسانے اور ناول کے ساتھ کالم بھی زیادہ شوق سے پڑھے جاتے تھے یا کالم نگار پریم چند،منٹو،قاسمی،بیدی،کرشن یا اشفاق احمد کی تڑپا دینے والی لائن کو عام آدمی تک پہنچا دیتے تھے۔ویمن یونیورسٹی ملتان میں میری ایک شاگرد ڈاکٹر عذرا لیاقت نے اپنے شعبے کی لائبریری کی خستہ حال کتابوں کے کچھ ورق بھیجے کہ کیسے حیرت انگیز ہیں،ہم اپنے شاگردوں کو کیسے یہ پڑھا سکتے ہیں؟ یہ جماعت ِ احرار کے چوہدری افضل حق کی تمثیل ’ زندگی‘ کے دیباچے کے طور پر چراغ حسن حسرت کی بے مثال نثر تھی۔ایک اچھے استاد کو کلاس میں جا کر یہ کتاب دکھانی چاہئے، اب زمانہ چارٹوں، بلیک بورڈوں یا وائٹ بورڈوں کا نہیں سلائیڈوں کا ہے،ایک سلائیڈ پر زندگی اور محبوبِ خدا والے چوہدری افضل حق کی تصویر اور کوائف ہونے چاہئیں،دوسری سلائیڈ چراغ حسن حسرت یعنی امروز کے سند باد جہازی کی تصویر کے ساتھ خاکوں کی ایک کتاب ’مردم دیدہ‘ اور دیگر کتابوں کے ساتھ ’ مطائبات‘ کا نام مع مطلب شگفتہ طبعی،بشاشت لکھا ہو اور ایک دو سطریں مردم دیدہ کے بارے میں کہ مردم کے لفظ کے ساتھ اضافتوں کی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے تب بھی اسے ہم تجربہ کارکے طور پر جانتے ہیںاور اگر اسے مردمِ دیدہ پڑھا جائے تو دیکھے ہوئے لوگ،ایک قدم اور بڑھ کے مردم کے پہلے م پر پیش لگا دیں یعنی مُردمِ دیدہ تو یہ ترکیب آنکھ کی پُتلی ہو جائے گی یعنی بہت عزیز۔اگر عذرا لیاقت اپنے شعبے کے دوسرے استادوں(ڈاکٹر شاہدہ رسول،ڈاکٹر سارہ مجید اور ڈاکٹر نجمہ عثمان کے ساتھ اپنی پروفیسر ایمریطس ڈاکٹر شگفتہ حسین) کو بھی اس سلائیڈ کی تیاری میں شریک کر لیں گی تو چار باتیں روزنامہ امروز مرحوم کے بارے میں،منٹو اور چراغ حسن حسرت کی دلچسپ نوک جھونک کا دلچسپ اضافہ ہو جائے گا اور اگر ڈاکٹر اسلم انصاری کے معلم بیٹے قاسم انصاری سے بھی مشاورت کر لیں گی تو وہ چوہدری افضل حق کی کتاب’ زندگی‘ کے بارے میں اپنے والد مرحوم کے ایم فل کے مطبوعہ مقالے کے ٹائٹل کے ساتھ دو چار دلچسپ نکات کا اضافہ کر دیں گے۔تاہم خدا کیلئے ایک اور ایم فل یا پی ایچ ڈی کا مقالہ نہ لکھوائیں البتہ مل جُل کے سرمایہ داروں کی ’’ٹرکل ڈائون تھیوری‘‘(ریزشِ زر) کی تھیوری پر منو بھائی کے کالم کا ایک اقتباس دے دیں جس کے بعد ہم نے زکریا یونیورسٹی کے ایک دو استادوں کو علمی ثروت سے مالا مال کرنے کی کوشش کی تھی کہ چلتے پھرتے ،بغیر گریباں چاک کئے وہ اپنےسو پچاس شاگردوں میں سے دو ایک کو فیض رساں بنا دیں۔