تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ ریاستیں اکثر بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی انتشار سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ یہ انتشار ہمیشہ کسی نہ کسی بلند فکر نعرے کے ساتھ آتا ہے۔ کبھی اسے مذہب کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، کبھی انقلاب کے نام پر اور کبھی عوامی حقوق کے نام پر۔ مگر جب اس کی تہہ میں جھانکا جائے تو اکثر وہاں ایک ایسی ذہنیت کارفرما نظر آتی ہے جو ریاستی نظم کو توڑنے اور معاشرے کو تقسیم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔اسلامی تاریخ میں اس ذہنیت کو خوارج کا نام دیا گیا تھایہ وہ لوگ تھے جو بظاہر بڑے عبادت گزار تھے لیکن ان کی فکر میں شدت، تکفیر اور بغاوت کا عنصر موجود تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے امت کے اندر ایسی آگ بھڑکائی جس کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے گئے۔آج کے زمانے میں اسی خارجی ذہنیت نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ اب یہ صرف مذہبی گروہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض سیاسی تحریکوں، مسلح گروہوں اور پراکسی نیٹ ورکس کی صورت میں بھی سامنے آتی ہے۔ ان کا بنیادی مقصد اصلاح نہیں بلکہ انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے۔
مسلم ممالک میں منتخب حکومتوں کے خلاف لوگوں کو کھڑا کرنا، ریاستی اداروں کو کمزور کرنا اور معاشرے کو مسلسل اضطراب میں رکھنا دراصل اسی ذہنیت کی جدید صورت ہے۔ ان قوتوں کی حکمت عملی بہت سادہ ہوتی ہے۔ وہ عوام کے جذبات کو بھڑکاتی ہیں، مذہبی یا سیاسی نعروں کے ذریعے نوجوانوں کو سڑکوں پر لاتی ہیں اور پھر ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جس میں ریاستی نظم کو چیلنج کیا جا سکے۔پاکستان میں حالیہ دنوں میں جو واقعات سامنے آئے ہیں، وہ اسی خطرناک رجحان کی واضح مثال ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ پابندیوں اور قانونی احکامات کے باوجود احتجاج کی کالیں دی گئیں۔ بعض گروہوں نے کھلے عام لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ترغیب دی۔اس کے نتیجے میں وہی کچھ ہوا جو ہر ایسے موقع پر ہوتا ہے۔ سڑکیں بند ہو گئیں، پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہو گئی، کاروبار زندگی ٹھپ ہو گیا اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔ روزانہ کی مزدوری کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، طالب علم اور مریض سب اس افراتفری کا براہ راست نشانہ بنے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ جب ریاست ایسے حالات میں قانون نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو فوراً ایک شور برپا کر دیا جاتا ہے۔ گرفتاریوں کو ظلم قرار دیا جاتا ہے، قانون کے نفاذ کو جبر کہا جاتا ہے اور پورے معاملے کو ایک نئی جذباتی کہانی میں تبدیل کر دیا جاتا ہےاور ذرائع ابلاغ کا ایک مخصوص حصہ اس انتشار کا حلیف بن جاتا ہے لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر حکومت اور ریاستی ادارے اس بڑھتے ہوئے انتشار کو بروقت روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بار بار یہی منظر کیوں دہرایا جاتا ہے کہ پہلے اشتعال انگیز بیانات دیے جاتے ہیں، پھر احتجاج کی کالیں آتی ہیں، پھر سڑکیں بند ہوتی ہیں، پھر تشدد ہوتا ہے اور آخر میں ریاست حرکت میں آتی ہے۔ریاست کا بنیادی فرض صرف ردعمل دینا نہیں بلکہ پیشگی حکمت عملی کے ذریعے امن قائم رکھنا بھی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات حکومتیں سیاسی مصلحتوں، وقتی مفادات یا کمزور حکمرانی کے باعث ایسے عناصر کے ساتھ نرمی برتتی ہیں۔ یہی نرمی بعد میں ریاست کیلئے بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ جب قانون کا نفاذ غیر مستقل اور غیر مساوی ہو تو معاشرے میں یہ پیغام جاتا ہے کہ طاقت اور شور شرابہ ہی اصل زبان ہے۔خارجی ذہنیت کو پہچاننے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ جب بھی آپ کسی سیاسی یا مذہبی گروہ، ادارے یا افراد کی گفتگو میں مسلسل نفرت، اشتعال، توڑ پھوڑ اور تشدد کی ترغیب دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ مسئلہ صرف اختلاف رائے کا نہیں بلکہ ایک خطرناک خارجی ذہنیت کا ہے۔آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو اسی ذہنیت کی جھلک مختلف صورتوں میں نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ مذہب کے نام پر، کچھ سیاست کے نام پر ، کچھ حقوق کے نام پر اور کچھ انقلاب کے نام پر معاشرے کو ایک ایسی انتہا کی طرف لے جانا چاہتے ہیں جہاں مکالمہ، اعتدال اور ریاستی نظم کی کوئی جگہ باقی نہ رہے۔پاکستان جیسے پیچیدہ معاشرے میں اس طرز فکر کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ہمارا ملک پہلے ہی کئی داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر معاشرے کے اندر مسلسل اشتعال، تشدد اور بغاوت کی فضا پیدا کی جائے تو اس کا فائدہ صرف ان قوتوں کو ہوگا جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔اسی لیے حکومت اور ریاستی اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض وقتی ردعمل تک محدود نہ رہیں بلکہ ایک واضح اور مضبوط حکمت عملی کے ذریعے ایسے عناصر کا راستہ روکیں۔ ریاست کی طاقت صرف طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ قانون کی یکساں اور بروقت عملداری میں ہوتی ہے۔