آزاد جموں و کشمیر پولیس کے سابق ڈی آئی جی عرفان سلیم نے اپنی 35 سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں جرأت، دیانتداری، فرض شناسی اور عوامی خدمت کی مثالیں قائم کرتے ہوئے متعدد قومی اور سرکاری اعزازات اپنے نام کیے، انہیں ’تمغۂ امتیاز‘، ’قائدِاعظم پولیس میڈل‘ سمیت کئی بڑے اعزازات سے نوازا گیا ہے۔
نمائندہ جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق ڈی آئی جی عرفان سلیم نے کہا کہ میں اپنی تمام کامیابیوں پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے عوامی خدمت کا موقع دیا۔
اُنہوں نے کہا کہ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنے فرائض ایمانداری، خلوص اور بہادری کے ساتھ انجام دوں۔
عرفان سلیم نے کہا کہ پولیس کی ملازمت ایک مقدس ذمے داری ہے جہاں ایک افسر قانون کی عملداری، مظلوم کی مدد اور جرائم کے خاتمے کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دورانِ سروس مجھے کئی خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑا تاہم اللّٰہ تعالیٰ کے فضل، عوامی دعاؤں اور اپنی ٹیم کی محنت سے میں ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا۔
سابق ڈی آئی جی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ’قائدِاعظم پولیس میڈل‘ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بطور پولیس افسر انتہائی قابلِ فخر اعزاز ہے جو مجھے غیر معمولی بہادری، پیشہ ورانہ قابلیت اور نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا، اس کے ساتھ حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے نقد انعام بھی دیا گیا۔
عرفان سلیم کے مطابق مجھے مجموعی طور پر 4 بڑے بہادری کے اعزازات جبکہ 2 مرتبہ گولڈ میڈل کا اعزاز بھی ملا، حکومتِ پاکستان نے 2023ء میں میری قومی خدمات، دیانتداری اور کارکردگی کے اعتراف میں اعلیٰ سول اعزاز ’تمغۂ امتیاز‘ سے نوازا۔
ان کا کہنا ہے کہ میرے لیے سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ میں نے اپنی پوری سروس عوام کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے لیے وقف کیے رکھی، ایک پولیس افسر کا اصل سرمایہ عوام کا اعتماد اور محبت ہوتی ہے۔
عرفان سلیم کو مختلف ادوار میں حکومتِ آزاد کشمیر، حکومتِ پاکستان، پنجاب حکومت اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے متعدد اعزازات اور نقد انعامات بھی دیے گئے۔
1993ء میں حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے انہیں ’صدارتی پولیس میڈل‘ اور 2 لاکھ روپے نقد انعام دیا۔
1997ء میں آزاد کشمیر پولیس نے انہیں ’مین آف دی ایئر ایوارڈ‘ سے نوازا۔
2008ء میں حکومتِ آزاد کشمیر نے دوبارہ ’صدارتی پولیس میڈل‘ اور 2 لاکھ روپے نقد انعام دیا۔
2012ء میں پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے انہیں سماجی خدمات کے اعتراف میں ’گولڈ میڈل‘ دیا۔
2013ء میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم آزاد کشمیر نے غیر معمولی کارکردگی پر 5 لاکھ روپے نقد انعام دیا۔
2014ء میں حکومتِ پنجاب نے انہیں ’بریوری ایوارڈ‘ اور 2 لاکھ روپے نقد انعام سے نوازا۔
2015ء میں حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے انہیں اعلیٰ ترین بہادری کے اعزاز ’قائدِاعظم پولیس میڈل‘ کے ساتھ 3 لاکھ روپے نقد انعام دیا۔
2016ء میں میرپور کی سماجی، عوامی اور کاروباری شخصیات نے انہیں ’گولڈ میڈل‘ پیش کیا جبکہ اسی سال حکومتِ آزاد کشمیر نے دوبارہ ’صدارتی پولیس میڈل‘ اور 2 لاکھ روپے نقد انعام دیا۔
2023ء میں حکومتِ پاکستان نے انہیں اعلیٰ سول اعزاز ’تمغۂ امتیاز‘ سے نوازا جسے ان کی پوری سروس کا تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
سابق ڈی آئی جی عرفان سلیم نے بتایا کہ دورانِ ملازمت مجھے مجموعی طور پر 211 ایفیشنسی اور اعلیٰ کارکردگی ایوارڈز حاصل ہوئے جو میری انتھک محنت، جرأت، دیانتداری اور محکمانہ خدمات کا واضح ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام اعزازات صرف میری ذات نہیں بلکہ میری پوری ٹیم اور محکمۂ پولیس کے لیے بھی اعزاز ہیں۔